- فتوی نمبر: 2-227
- تاریخ: 18 مارچ 2009
- عنوانات: خاندانی معاملات
استفتاء
گزارش ہے کہ میں گذشتہ سات سال ۔۔۔ماہ سے بیرون ملک میں مقیم ہوں میرے دو بچے ہیں جن کی عمر سترہ سال اور گیارہ سال ہے، مجھے بیرون ملک میں شہریت لینے کے لیے اپنے آپ کو طلاق یافتہ ظاہر کرنا تھا سو اس لیے پاکستان کی عدالت سے طلاق نامہ حاصل کیا اور عدالت میں میرے خاوند نے جج کے سامنے یہ الفاظ کہے ” تم میری طرف سے فارغ ہو” لیکن طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا اور عدالت نے جب طلاق کا فیصلہ کیا توا س نے طلاق نامہ خود وصول نہیں کیا اور اس پر اپنے دستخط بھی نہیں کیے ، بلکہ اس کے ایک دوست نے جعلی دستخط کیے میرے شوہر کے کہنے پر اس کے بعد میں بیرون ملک چلی گئی میرے جانے کے بعد میرے خاوند نے ایک سال بعد دوسری شادی کرلی اور میرا ایک بیٹاشوہر کے ساتھ رہتاتھا اس کی عمر اس وقت بارہ سال تھی اس کے سامنے بھی اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ اب وہ اس بات سے انکار کررہاہے۔ اوراس نے ٹیلی فون پر بھی مجھے کہا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو لیکن اب وہ اس بات سے انکار کررہاہے۔ میرے کہنے پر اس نے دوسری بیوی کو طلاق دے دی اور حق مہر بھی اداکردیا اور پھر کچھ عرصے کے بعد دوسری بیوی سے رجوع کرلیا ، میرے ناراض ہونے پر اس نے دوسری بیوی کو چھوڑدیا اور اس عورت سے دوسری شادی کرلی ، میں 2005 میں واپس اپنے ملک آئی اور اس سےصلح کرلی اور چند گھنٹے اس کے ساتھ گذارے اب میں اس بات پر پریشان ہوں کہ مجھے طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ اب ان حالات کا مجھے فتویٰ دیا جائے کہ اب ہم میاں بیوی ہیں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
منسلکہ طلاق نامہ کی روسے تینوں طلاقیں ہوگئیں ہیں جن کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا ہے، اور بیوی شوہر کے لیے حرام ہوگئی ہے ۔ اب رجوع اور صلح نہیں ہوسکتی ، لہذا میاں ، بیوی علیحدہ علیحدہ رہیں۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved