- فتوی نمبر: 34-125
- تاریخ: 07 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > متفرقات خاندانی معاملات
استفتاء
اگر کوئی شوہر بیرون ملک کمانے چلا جاتا ہے جو پانچ چھ سال بعد گھر آتا ہے تو کیا اتنا عرصہ اپنی بیوی سے دور رہنے کی شریعت اجازت دیتی ہے ؟ اور شریعت میں اس کی کیا صورت ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر بیوی کی طرف سے اتنا عرصہ دور رہنے کی دلی رضامندی کے ساتھ اجازت ہو اور شوہر کو بھی غالب گمان ہو کہ بیوی اتنا عرصہ عفت اور پاک دامنی کے ساتھ گزارے گی تو بیوی سے چار ماہ یا اس سے زائد عرصہ دور رہنا جائز ہے ورنہ جائز نہیں ۔
مصنف عبد الرزاق (رقم الحدیث 12593) میں ہے :
عن ابن جريج قال: أخبرني من أصدق، أن عمر، وهو يطوف سمع امرأة، وهي تقول:
تطاول هذا الليل واخضل جانبه … وأرقني إذ لا خليل ألاعبه
فلولا حذار الله لا شيء مثله … لزعزع من هذا السرير جوانبه
فقال عمر: «فما لك؟» قالت: أغربت زوجي منذ أربعة أشهر، وقد اشتقت إليه. فقال: «أردت سوءا؟» قالت: معاذ الله قال: «فاملكي على نفسك فإنما هو البريد إليه» فبعث إليه، ثم دخل على حفصة فقال: «إني سائلك عن أمر قد أهمني فأفرجيه عني، كم تشتاق المرأة إلى زوجها؟» فخفضت رأسها فاستحيت. فقال: «فإن الله لا يستحيي من الحق»، فأشارت ثلاثة أشهر وإلا فأربعة. فكتب عمر «ألا تحبس الجيوش فوق أربعة أشهر»
فتاوی شامی (3/203) میں ہے :
ويؤيد ذلك أن عمر رضي الله تعالى عنه لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيه …….. (قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة.ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به.”
امداد الاحکام (381/2) میں ہے:
سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ انسان سفر میں جائے کسی ضروری کام کے لیے اور اس کا وہ کام اب تک ختم نہ ہو اور اس میں چار ماہ ہو جائیں تو بیوی سے چار ماہ میں نہ ملنے سے وہ گنہگار ہوتا ہے ؟ یا کہ وہ مختار ہے کہ جہاں تک چاہے سفر میں رہ سکے۔
الجواب : اس صورت میں گناہ ہونا مطلقاً لازم نہیں بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ بیوی سے دیانۃ ً اتنی مدت تک نہ ملنے سے گناہ ہوتا ہے جس میں اندیشہ اس کی عفت زائل ہونے کا ہو یا یہ اندیشہ ہو کہ اس کو غیر مردوں کی طرف التفات ہو گا۔ اب اس کو ہر شخص اپنی بیوی کی حالت میں غور کر کے دیکھ لے کہ اس کی بیوی کتنی مدت تک مرد سے صبر کر سکتی ہے اور کتنی مدت میں اس کو مرد کی طرف اشتیاق ہوتا ہے ۔بعض فقہاء نے اندازہ سے چار ماہ اس کی مدت مقرر کی ہے۔ و هي مدة الايلاء وبها امر عمر ان لا يحبس رجل فوقها في الجيش.مگر اختلاف حالات وامزجہ سے اس میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved