• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بلدیہ کی زمین بغیر رجسٹریشن کے قبضہ کرنے کے بعد بیٹے کے اس زمین کو خریدنے پر وراثت کا حکم

استفتاء

بعض اوقات حکومت کی کوئی زمین ہوتی ہے جس پر لوگ قبضہ کر لیتے ہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً حکومت ان کی رجسٹریشن کی اسکیم جاری کرتی رہتی ہے کہ مثلاً اتنے روپے فی مرلہ کے حساب سے فلاں زمین کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ میرے والد صاحب نے 1960 یا 1965 میں ایسی ہی ایک زمین کا قبضہ پیسے دے کر لیا تھا جو جگہ بلدیہ کے نام تھی۔ جس سے لی تھی وہ وہاں قابض تھا خود مالک نہیں تھا کیونکہ اس نے اس جگہ کی رجسٹریشن نہیں کروائی تھی۔ والد صاحب نے بعد میں وہاں مکان تعمیر کروایا، ہم بہن بھائی اس میں رہنے لگے اور چند سال بعد والد صاحب کی وفات ہوئی اور میری بہنوں اور بڑے بھائی کی شادی ہوئی اور ایک بہن کی وفات ہوئی اور بہنیں اپنے گھروں میں منتقل ہو گئیں۔ اب کچھ وقت بعد جب میں اپنے بڑے بھائی اور والدہ کے ساتھ گھر میں تھا تب حکومت نے گھر کا سروے کیا اور وہاں سروے میں 10 مرلے گھر میری والدہ کے اور 10 مرلے گھر بڑے بھائی کے نام لکھ دیا (یعنی لکھا کہ یہ موقع پر قابض ہیں) اس وقت صرف سروے ہوا تھا پر رجسٹریشن نہیں جس کیلئے کچھ رقم درکار تھی۔ پھر کچھ وقت بعد میری شادی سے کچھ سال قبل میرے بڑے بھائی دوسرے گھر میں منتقل ہو گئے، اور اسکے کچھ سال بعد میری والدہ کومہ میں چلی گئیں جس کی وجہ سے انکی تدفین کی گئی۔ اب اس گھر میں صرف میں رہائش پذیر ہوں۔ میری موجودگی میں کچھ سال قبل گھر کا سروے کیا گیا مگر میرے بڑے بھائی نے اپنے تعلقات کی بنا پر سروے میں پہلے یہ لکھوایا کہ وہ موقع پر موجود ہیں جبکہ وہ نہیں تھے اور بعد میں جب میں نے انہیں (بلدیہ) کو حقیقت سے آگاہ کیا تو میرے بھائی نے سروے منسوخ کروا دیا، لہٰذا وہی پرانا سروے جو بڑے بھائی اور والدہ کے نام تھا وہی رہنے دیا۔ اب باقی بہن بھائی اپنے اپنے گھروں میں ہیں، اور مجھے یہاں نیا مکان تعمیر کرنا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں حکومت سے یہ جگہ خرید کر اپنے نام رجسٹریشن کرواتا ہوں تو کیا شریعت کے حساب سے مجھے باقی بہنوں اور بھائی کو حصہ دینا ہوگا؟ جبکہ میں نے یہ زمین خود حکومت (بلدیہ، جو اس جگہ کی ملکیت رکھتی ہے) سے خریدی ہو گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اس گھر میں آپ کے والد کے دیگر ورثاء کا بھی حصہ ہے۔ لہٰذا اگر آپ پیسہ لگا کر اس زمین کی رجسٹریشن کروا لیتے ہیں تو آپ کے ورثاء کو یہ اختیار ہوگا کہ یا تو وہ اپنے حصے کی نسبت سے اس خرچے میں شریک ہوں اور گھر میں شریک رہیں یا پھر رجسٹریشن کے بعد جو گھر کی مالیت ہو اس میں سے آپ اپنا رجسٹریشن پر آیا خرچہ وصول کر لیں اور باقی مالیت میں سب شریک رہیں ۔ نیز جب تک زمین کی رجسٹریشن نہیں ہوتی اس وقت تک اس گھر کی جو موجودہ مالیت ہوگی اس میں سب ورثاء شریک ہوں گے۔

توجیہ: حکومت کی جو زمینیں عام لوگوں کے قبضوں میں ہوتی ہیں، وہ اگرچہ اصلاً تو حکومت کی ملکیت ہوتی ہیں مگر چونکہ عام طور پر حکومت ان سے تعرض نہیں کرتی اور لوگ ہمیشہ ان زمینوں پر مالکانہ تصرفات مثلاً  تعمیرات بیع و اجارہ وغیرہ کرتے رہتے ہیں اور عملاً انہیں اپنی ملکیت ہی سمجھا جاتا ہے اس لیے ان زمینوں پر وراثت بھی جاری ہوتی ہے۔

احکام الاوقاف للخصاف(ص: 34) میں ہے:

إن كانت الأرض اجارة في أيدي القوم الذين بنوها لا يخرجهم السلطان عنها فالوقف جائز فيها من قبل أنا قد رأيناها في أيدي أصحاب البناء يتوارثونها وتقسم بينهم لا يتعرض لهم السلطان فيها ولا يزعجهم عنها وإنما له عليهم غلة يأخذها منهم قد تداولتها أيدي الخلف عن السلف ومضى عليها الدهور وهي في أيديهم يتبايعونها ويؤجرونها وتجوز فيها وصاياهم ويهدمون بناءها ويغيرونه ويبنون غيره فكذلك الوقف فيها جائز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved