- فتوی نمبر: 17-27
- تاریخ: 18 مئی 2024
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > منتقل شدہ فی مالی معاملات
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے کہ میں حجامہ کرتا ہوں،ایک جگہ میں حجامہ کرنے گیا اور ان سے میں نے اجرت طے کی تھی، پھر باتوں باتوں میں، میں نے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں دوبئی میں ایک بینک میں ملازم ہوں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میں وہ اجرت کی رقم استعمال کر سکتا ہوں یا نہیں؟ اور اگر وہ مجھے دوبارہ بلائیں تو میں جا سکتا ہوں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ اپنے جائز کام کی اجرت لے سکتے ہیں اگرچہ دینے والابینک کی کمائی میں سے دے،لہذا اگروہ دوبارہ بلائیں تو پھر بھی جا سکتے ہیں۔۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved