- فتوی نمبر: 34-366
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
ہمارا باغ کے پھلوں کا کاروبار ہے جس میں پھلوں کی بیع سے متعلق مختلف صورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ باغبان کسی بیوپاری سے کچھ رقم اس شرط پر لیتا ہے کہ پھل پکنے کے بعد بقدر رقم اس کوپھل دوں گا۔کیا یہ صورت جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت اگر بیع سلم کے طور پر کی جائے تو جائز ہے ورنہ ناجائز ہے ۔ بیع سلم کا مطلب یہ ہے کہ آپ خریدار سے پھل کی ایک مقدار مثلا 10 من طے کر کے سودا کرلیں اور پھل کی جنس مثلا سیب ،نوع اور صفات واضح طور پر بتا دی جائیں پھل کی حوالگی کا وقت بھی طے کرلیا جائے کہ کب ادا کیے جائیں گے اور کل قیمت اسی موقع پر خریدار ادا کردے چنانچہ ادائیگی کے موقع پر باغ والے کے ذمے اتنے پھل کی ادائیگی ہوگی چاہے اپنے باغ سے دے چاہے کہیں اور سے چاہے اپنے باغ میں پھل ہو ہی نہ تب بھی اس کے ذمے اتنے پھل ادا کرنا ہوں گے لیکن اگر اسی کے باغ کے پھل مشروط ہوں تو پھر بیع سلم نہیں بنے گی اور یہ صورت بھی جائز نہ ہوگی۔
البنایہ شرح الہدایہ (8/329) میں ہے:
وأما الرخصة في السلم فأخرجه الأئمة الستة في كتبهم عن أبي المنهال «عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة والناس يسلفون في التمر السنتين والثلاث فقال: “من أسلف في شيء فليسلف في كيل معلوم إلى أجل معلوم» .
م: (والقياس وإن كان يأباه) ش: أي السلم أي جوازه م: (ولكنا تركناه) ش: أي القياس م: (بما رويناه) ش: وهو الحديث الذي ذكرنا الآن م: (ووجه القياس أنه بيع المعدوم إذ المسلم فيه هو المبيع) ش: وفي أكثر النسخ إذ المبيع هو المسلم فيه وهو معدوم وبيع موجود غير مملوك أو مملوك غير مقدور التسليم لا يصح، فبيع المعدوم أولى وأجدر وانعقد الإجماع على جوازه باعتبار الحاجة والضرورة
ہدایہ (3/139) میں ہے:
“ولا يجوز السلم بمكيال رجل بعينه ولا بذراع رجل بعينه” ……….. “ولا في طعام قرية بعينها” أو ثمرة نخلة بعينها لأنه قد يعتريه آفة فلا يقدر على التسليم وإليه أشار عليه الصلاة والسلام حيث قال “أرأيت لو أذهب الله تعالى الثمر بم يستحل أحدكم مال أخيه؟ ” ولو كانت النسبة إلى قرية لبيان الصفة لا بأس به على ما قالوا كالخشمراني ببخارى والبساخي بفرغانة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved