• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

برہ اور بریرہ نام رکھنا کیسا ہے؟

استفتاء

برہ اور بریرہ نام رکھنا کیسا ہے؟

برہ نام کے بارے میں حدیث میں کوئی بات ملتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا یا تبدیل کر دیا تو کیا بریرہ نام رکھنے  کا بھی وہی حکم ہے یا بریرہ اس سے الگ ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔بریرہ نام رکھنا درست ہے کیونکہ بریرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ ایک باندی اور دیگر صحابیات کا بھی  نام تھا اگر اس نام سے ممانعت ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کا نام تبدیل کر دیتے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غلط نام کو تبدیل فرما دیا کرتے تھے۔

2۔برہ نام رکھنا بھی جائز ہے اگرچہ بعض روایات سے اس کی ممانعت معلوم ہوتی ہے لیکن بعض شارحین حدیث کے مطابق آج کل چونکہ  اس حدیث میں بیان کردہ ممانعت کی وجوہات نہیں پائی جاتیں  اس لیے برہ نام رکھنے کی بھی  گنجائش ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ برہ نام رکھنے سے ممانعت کی دو وجوہات ذکر کی گئی  ہیں :

1۔خود اپنے آپ کی تعریف بیان کرنا یعنی  برہ کا معنیٰ “نیک” ہے اس لیے اپنا نام برہ بتاکر اپنے آپ  کونیک کہنا۔

2۔بد شگونی یعنی برہ نامی عورت کا بھائی باپ وغیرہ جب اس کے پاس سے ہو کر آئے اور کہے کہ   خرجت من بره  تو ایک معنی یہ بھی بنتا ہے کہ میں نیکی سے نکل آیا۔  (گویا کہ اب برائی میں داخل ہو گیا )

بعض شارحین کے مطابق  آج کل مذکورہ بالا دونوں وجوہات نہیں پائی جاتیں  کیونکہ آج کل نام رکھ دینے کے بعد عموماً  کسی کا دھیان معنی کی طرف نہیں جاتا لہذا خرجت من بره  کہنے پر عموماً  کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ شاید یہ شخص اب برائی میں پڑ گیا  ہے اسی طرح اپنا نام برہ بتانے والی کو کوئی بھی معنی کی طرف  دھیان کرتے ہوئے واقعی نیک نہیں سمجھتا اس لیے اپنے  منہ اپنی تعریف کرنے کا  احتمال کمزور ہے لہٰذا  برہ نام رکھنا جائز ہے۔

صحیح بخاری (رقم الحدیث:2577)میں ہے:

عن ‌أنس بن مالك رضي الله عنه قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم، فقيل: ‌تصدق ‌على ‌بريرة، قال هو لها صدقة، ولنا هدية

الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (4/1795) میں ہے:

‌بريرة ‌مولاة عائشة بنت أبي بكر الصديق،

كانت مولاة لبعض بني هلال فكاتبوها، ثم باعوها من عائشة، وجاء الحديث في شأنها بأن الولاء لمن أعتق

المفہم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم (5/ 465) میں ہے:

وعن ابن عباس قال: كانت جويرية اسمها ‌برة، فحول رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمها جويرية؛ وكان يكره أن يقال: خرج من عند ‌برة.وأما تغييره برة فلوجهين:

أحدهما: أنه كان يكره أن يقال: خرج من عند ‌برة؛ إذ كانت المسماة بهذا الاسم زوجته، وهي التي سماها جويرية.

والثاني: لما فيه من تزكية الإنسان نفسه، فهو مخالف لقوله تعالى: {فلا تزكوا أنفسكم هو أعلم بمن اتقى} ويجري هذا المجرى في المنع ما قد كثر في هذه الديار من نعتهم أنفسهم بالنعوت التي تقتضي التزكية، كزكي الدين، ومحيي الدين، وما أشبه ذلك من الأسماء الجارية في هذه الأزمان؛ التي يقصد بها المدح، والتزكية، لكن لما كثرت قبائح المسمين بهذه الأسماء في هذا الزمان ظهر تخلف هذه النعوت عن أصلها، فصارت لا تفيد شيئا من أصل موضوعاتها، بل ربما يسبق منها في بعض المواضع، أو في بعض الأشخاص نقيض موضوعها.

لسان العرب (1/48) میں ہے:

(برة): علم للبر.

القاموس الوحید (ص:159) میں ہے:

برۃ: (علم) نیکی، احسان۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved