- فتوی نمبر: 32-194
- تاریخ: 05 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > نفلی صدقات کا بیان
استفتاء
اگر کسی کا بچہ بیمار ہوا تو اس نے اس کا صدقہ اتار کر اسی بچہ کو دے دیا تو کیا یہ درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
درست نہیں۔
توجیہ: چونکہ صدقہ عبادت مالی ہے اس لیے دوسرے کی طرف سے بھی جائز ہوگا ۔ اس لیے اگر والدین اپنے بچوں کا صدقہ نکالیں تو یہ صدقہ بچوں کا شمار ہوگا اور جب یہ صدقہ بچوں کا شمار ہوگا تو انہی بچوں کو کھلانا کافی نہ ہوگا جن کی طرف سے یہ صدقہ نکالا گیا ہے جیسے اپنی طرف سے صدقہ نکال کر اسے خود ہی استعمال کرنا درست نہیں۔
سنن ترمذی (رقم الحدیث:2470) میں ہے:
عن عائشة، أنهم ذبحوا شاة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «ما بقي منها»؟ قالت: ما بقي منها إلا كتفها قال: «بقي كلها غير كتفها.
ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے صدقہ کی ایک بکری ذبح کی آپﷺ نے دریافت کیا اس بکری میں سے کیا باقی بچا، حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اس کے بازو کے علاوہ کچھ نہیں بچا تو آپﷺ نے فرمایا: بازو کے سوا سب کچھ بچ گیا۔
مرقاۃ المفاتیح (4/1346) میں ہے:
(وعن عائشة – رضي الله عنها – قالت: إنهم ذبحوا شاة) أي: أصحاب النبي – صلى الله عليه وسلم – قاله ابن الملك، أو أهل البيت – رضي الله عنهم – وهو الأظهر (فقال النبي – صلى الله عليه وسلم -: ” ما بقي منها؟ “) على الاستفهام أي: أي شيء بقي من الشاة ” قالت: ما بقي ” أي: منها كما في نسخة صحيحة ” إلا كتفها ” أي: التي لم يتصدق بها ” قال: بقيت كلها غير كتفها ” بالنصب والرفع أي: ما تصدقت به فهو باق، وما بقي عندك فهو غير باق إشارة إلى قوله – تعالى – {ما عندكم ينفد وما عند الله باق}
آپ کے مسائل اور ان کا حل(5/208) میں ہے:
سوال: ایک آدمی صدقے میں بکرا ذبح کرتا ہے اور وہ گوشت آس پاس پڑوسیوں میں بانٹتا ہے آیا وہ گوشت گھر میں کھلا سکتا ہے یا نہیں؟ ………….
جواب: بكر ا ذبح كرنے سے صدقہ نہیں ہوتا بلکہ فقراء ومساکین کو دینے سے صدقہ ہوتا ہے اس لیے جتنا گوشت محتاجوں کو تقسیم کردیا اتنا صدقہ ہوگیا اور جو گھر میں کھالیا وہ نہیں ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved