• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بہن، بھائی میں گھر اور رقم کی تقسیم

استفتاء

05 نومبر 2011 کو ہمارے والد زید  مرحوم نے دو کنال کا پلاٹ اپنے دونوں بچوں، خالد (بیٹا) اور فاطمہ (بیٹی) کے نام برابر کی شراکت میں خریدا، 03اپریل 2014 کو اس میں سے ایک کنال بچوں کی طرف سے اپنے نام ہبہ کا کاغذ تیار کروایا اور دستخط کروا لئے۔ مگر نہ تو انہوں نے بتایا کہ کیا دستاویز ہے اور نہ ہی ہم نے ان سے پوچھا کہ ہم کس پر دستخط کر رہے ہیں، اس دستاویز پر عمل نہیں ہو سکا، یعنی سوسائٹی دفتر میں بھی رجسٹر نہیں کروایا،01 جنوری 2019 کو ہمارے والد زید  کا انتقال ہوا تھا، متذکرہ گھر آج بھی اسی تناسب سے ہم دونوں کے نام ہی ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں یہ پلاٹ ہمارے ہی نام سے خریدا تھا اور اس پر ہمارے ہی لئے دو حصوں میں اسکی تعمیر کی تھی اس کے بعد بھائی اور والد اس گھر میں شفٹ ہو گئے تھے، بہن والدکی وفات کے بعد شفٹ ہوئی،  زبانی بھی یہ کہا تھا کہ یہ گھر تم دونوں کا ہے اس کے گواہان موجود ہیں ۔ اب سوال  یہ ہے کہ:

1۔کیا یہ گھر B – 58، ازمیر ٹاؤن، رقبہ 2 کنال ہمارے والد کی وراثت میں آتا ہے یا نہیں؟

2۔ دیئے گئے کاغذات کی رو سے گھر میں بیٹی کا شرعی حصہ کیا بنتا ہے؟ بھائی کے  برابر یا ایک تہائی؟ جبکہ بھائی کو برابر کی شراکت پر کوئی اعتراض نہیں۔

3۔ والد مرحوم نے 2013 میں میرے خاوند بکر  اور انکے بڑے بھائی  عمر کو 13,800,000 ایک کروڑ، اڑتیس لاکھ کی رقم قرض دی کیونکہ انکے گھر واقع ڈیفنس، لاہور پر بینک کا قرض تھا، اس کی واپسی کیلئے یہ رقم  دی تھی، وہ گھر میرے خاوند اور انکے بڑے بھائی کے نام برابر کی شراکت میں ہے، اس وقت گھر کی مالیت دو کروڑ تھی۔ تقریبا 70 فیصد ادائیگی کے بعد میرے مرحوم  والد نے میرے خاوند سے کہا کہ گھر کی آدھی ملکیت میرے نام (فاطمہ) اور آدھی میرے خاوند بکر  کے نام کروائی جائے۔ کاغذ بن گیا اور اس پر بکر صاحب اور میں   نے دستخط کر دیئے، مگر DHA دفتر میں رجسٹر نہیں کروایا، 2017 جولائی میں میرے سسر کی وفات کے بعد میری نندوں اور خاوند کے بڑے بھائی نے  میرے والد مرحوم سے کہا  کہ ہم ستمبر 2017 تک قرض کی ادائیگی کریں گے، گھر کی ملکیت جیسے ہے ویسے ہی رہنے دیں۔ 2018 میں والد مرحوم نے دو بارہ قرض کی رقم کی واپسی کا تقاضا کیا مگر ادائیگی نہ ہوئی، اسکے بعد والد کی جنوری 2019 میں وفات ہو گئی، آج تک نہ تو گھر ملا اور نہ ہی رقم  کی ادائیگی ہوئی۔ اس دوران بارہا رقم کا تقاضا بے سود رہا اور معاملے کو طویل کیا جا رہا ہے، میرے خاوند کے بھائی اپنے گھرانے سمیت عرصہ چار سال سے مکمل گھر میں رہائش پذیر ہیں اور یہ گھر  انہی کے استعمال میں ہے، گراونڈ فلور پر میری تمام چیزیں انہی کے زیر استعمال  ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے تین بچوں کی شادیاں بھی کیں۔ دونوں بیٹے اچھے روزگار پر ہیں، بڑے بیٹے نے ایک گھر خرید کر کرائے پر دیا تھا، گاڑیاں بھی خریدیں،مگر قرض واپس نہ ہوا۔

کیا یہ رقم جو وہ اپنی وفات سے پانچ سال پہلے مجھے دے گئے، انکی وراثت و جائیداد میں شامل ہے یا میری ملکیت ہے؟ بھائی  خالد  کا کہنا ہے کہ میں اس رقم کا کوئی تقاضا نہیں کرتا کیونکہ یہ  ہمارے والد اور میری بہن  فاطمہ کا ذاتی معاملہ ہے جس کا  مجھے والد کے انتقال کے چند ماہ بعد علم ہوا کہ ہمارے چچاؤں نے والد کی الماری اور سیف سے تمام دستاویزات، امانتیں، ضروری کاغذات بنا پوچھے اور بنا بتائے نکالیے ہیں۔

4۔والد مرحوم   نے   وصیت کی تھی جس کی کاپی منسلک ہے، اس وصیت میں انہوں نے   وضاحت سے لکھا ہے کہ سب سے پہلے انکے ذمہ قرض ادا کیا جائے، اس کے بعد بقیہ جائیداد یا وراثت میں سے 20 فیصد قریبی ضرورت مند رشتے داروں کو فوقیت اور ترجیح دی جائے، مگر آج تک قرض، وراثت اور 20 فیصد کا تعین ہونا باقی ہے، جبکہ قریبی رشتہ داروں میں ضرورت مند بھی موجود ہیں، اس وصیت پر کیسے عمل کیا جائے؟ نیز کیا مذکورہ بالا  گھر پر بھی وصیت لاگو ہو گی؟ اور کیا مذکورہ بالا رقم پر بھی  ان کی وصیت لاگو ہو گی؟

نوٹ: والد صاحب کے والدین والد صاحب سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے،  نیز ہمارے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں ان کی  دونوں بیویاں بھی ان سے  پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں، ایک بیوی سے ہم دو بہن بھائی ہیں، دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں تھی۔

وصیت نامہ

منکہ میں مسمی زید ولد ضیاء(مرحوم) ساکن **** بقائمی ہوش وہواس خمسہ و بلا جبر و اکراہ وصیت کرتا ہوں :

1۔من مسمی کی مندرجہ ذیل غیر منقولہ و منقولہ جائیداد ہے۔

(i)اراضی تعدادی 3 کنال 16 مرلہ 58.5 مربع فٹ واقع موضع نوتھ خالصہ تحصیل  پتوکی ضلع قصور۔

(ii) 1/3پراپرٹی نمبر 4-23 حالی روڈ گلبرگ ، لاہور ۔

(iii)کاروباری حصہ نیو ایر افرنیٹر زاور Design & Build،لاہور ۔

2۔من مسمی کی وفات کے وقت اگر کوئی قرض میرے ذمہ ہوگا تو سب سے پہلے اسکی ادائیگی میرے جملہ اثاثہ جات میں سے ہوگی۔

3۔ من مسمی کے کل اثاثہ جات میں سے 20% حصہ اللہ کی راہ میں (فی سبیل اللہ ) خرچ کیا جائے اور اس سلسلہ میں قریبی ضرورت مند رشتہ داروں کو فوقیت اور ترجیح دی جائے اور بقیہ اراضی و جائیداد بمطابق شریعت وارثان میں تقسیم کر دی جاوے۔

4۔من مسمی کی اس وصیت پر مکمل عمل درآمد کے ذمہ دار میرے برادران واجد  ، رضوان،   سمیع ، شکیل پسران  ضیاء مرحوم ہونگے۔

وصیت ہذا آج مؤرخہ 2017-01-27 بروز جمعہ بمقام لاہورتحریر کرکے میں نے اپنے دستخط رو برو گواہان اس پر ثبت کردئیے ہیں تاکہ سند رہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

2،1۔ چونکہ یہ گھر آپ کے والد نے اپنی زندگی ہی میں آپ دونوں (خالد  اور فاطمہ )  کے نام کر دیا تھا اور زبانی بھی یہ کہہ دیا تھا کہ “یہ گھر تم دونوں کا ہے” اور اس کے گواہان بھی موجود ہیں اور اپنی وصیت میں بھی اس گھر کو اپنی منقولہ غیر منقولہ جائیداد میں ذکر نہیں کیا لہذا ان تمام امور کے پیش نظر یہ گھر آپ کے والد مرحوم کی وراثت میں شمار نہ ہوگا بلکہ یہ آپ دونوں(خالد  اور فاطمہ )    کا ہوگا اور آپ دونوں بہن بھائی اس میں برابر کے شریک ہوں گے۔

3۔مذکورہ صورت میں گھر کی آدھی ملکیت آپ (فاطمہ) کے نام کرائے جانے کی تجویز پر چونکہ عمل نہیں ہوا اور یہ رقم بدستور آپ کے والد مرحوم کی وفات تک آپ کے سسرال والوں کے ذمہ قرض ہی رہی، اس لیے یہ رقم صرف آپ کی ملکیت نہ ہوگی بلکہ آپ کے والد مرحوم کی وراثت میں شمار ہوگی اور اس کے تین حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو حصے آپ کے بھائی کے ہوں گے اور ایک حصہ آپ کا ہوگا ۔

باقی آپ کے بھائی خالد اپنی خوشی سے اس میں سے اپنا حصہ نہ لیں اور اس رقم میں اپنا حصہ وہ آپ کو ہدیہ (گفٹ ) کر دیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔

4۔اس وصیت پر عمل اس طرح کیا جائے کہ (اگر ان کے ذمے کوئی قرض ہو تو ) مرحوم کے کل اثاثہ جات میں سے پہلے ان کا قرض ادا کیا جائے اس کے بعد بقیہ اثاثہ جات میں سے 20 فیصد اللہ کے راستے (خیر کے کاموں) میں خرچ کیا جائے اور اس سلسلے میں قریبی ضرورت مند رشتہ داروں کو فوقیت دی جائے یعنی جیسے وصیت میں لکھا ہے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔

نوٹ جو گھر والد مرحوم نے اپنی زندگی میں آپ دونوں (خالد  اور فاطمہ ) کے نام کر دیا تھا اس پر والد مرحوم کی وصیت لاگو نہ ہو گی البتہ جو رقم آپ کے سسرال والوں سے لینی تھی اس پر یہ وصیت لاگو ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved