- فتوی نمبر: 34-328
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے باپ کے سامنے سٹامپ پیپر پر لکھا کہ میں ماہانہ اپنے والدین کو اتنا اتنا خرچہ دوں گا، ساتھ اور بھی ذمہ داریاں اپنے ذمے لے لیں۔ بعد میں اس شخص نے نہ وہ ذمہ داریاں نبھائیں اور نہ والدین کے لئے مقرر کردہ خرچہ ادا کیا بلکہ وہ خرچہ اس کے ذمہ بہت زیادہ بڑھ گیا جس کی ادائیگی سے اب وہ قاصر ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ :
1۔کیا اس شخص پر اب بھی والدین کا وہ پرانا خرچہ لازم ہے یا اب ازسرنو اپنی استطاعت کے مطابق والدین کو دینے کا پابند ہوگا ؟
2۔نیز اس کی بھی وضاحت کردیں کہ آیا والدین کے لئے مقرر کردہ خرچہ بیٹے کے ذمہ قرض ہوتا ہے یا اسکی کوئی دوسری شرعی حیثیت ہے؟
تنقیح :سائل ایک مدرسہ میں شریک تخصص ہے ۔اس کے والدین امریکہ میں مقیم ہیں ۔ والد ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں جنہیں وظیفہ بھی ملتا ہے اور کافی خوشحال ہیں۔پہلے سائل بھی امریکہ میں کام کرتا تھا اور تخصص کے بعد اپنی فیملی کے ساتھ وہیں واپس جائے گا ۔ 2019 میں سائل کی شادی کے موقع پر والد نے مذکورہ سٹامپ لکھوایا تھا ۔ اس وقت سے اب تک کا خرچہ والد صاحب کے مطابق پانچ لاکھ امریکی ڈالر بن چکا ہے جس کا والد صاحب مطالبہ کررہے ہیں ۔ جبکہ سائل بقدر کفایت ہی کماتا ہے اور یہ رقم ساری زندگی بھی ادا کرنے سے قاصر ہے۔ آئندہ کے خرچ کے لیے تو سائل کوشش کرسکتا ہے لیکن گزشتہ سالوں کی رقم بہت زیادہ ہے ۔ والد صاحب سائل سے پیسے لے کر خود بھی رکھتے ہیں ،کچھ اپنی بیٹیوں کو اور کچھ رقم ایک مدرسہ میں دیتے ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ گزشتہ عرصہ کی رقم کیا سائل کے ذمہ قرض ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
والدین اگر فقیر اور محتاج نہ ہوں تو اولاد کے ذمہ شرعا ً ان کا خرچہ نہیں ہے ۔بلکہ وہ اپنے ذاتی مال میں سے ہی اپنے اخراجات پورے کریں گے ۔لہٰذا مذکورہ صورت میں گزشتہ سالوں کا جوخرچہ آپ ادا نہیں کرسکے وہ آپ کے ذمہ قرض نہیں ہے ۔ تاہم چونکہ آپ نے ان سے تحریراً معاہدہ کیا ہے اس لیے ایفاء عہد کرتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق اس کی ادائیگی کی کوشش کرتے رہیں یا والد صاحب سے اپنی مجبوری بیان کرکے آئندہ کے لیےاس میں تخفیف یا مکمل معاف کروالیں ۔
فتاوی شامی (3/ 594) میں ہے :
«مطلب لا تصير النفقة دينا إلا بالقضاء أو الرضا»
ثم اعلم أن المراد بالنفقة نفقة الزوجة، بخلاف نفقة القريب فإنها لا تصير دينا ولو بعد القضاء والرضا، حتى لو مضت مدة بعدهما تسقط كما يأتي .
فتاوی شامی (3/ 633) میں ہے :
«(قضى بنفقة غير الزوجة) زاد الزيلعي والصغير (ومضت مدة) أي شهر فأكثر (سقطت) لحصول الاستغناء فيما مضى» قوله غير الزوجة) يشمل الأصول والفروع والمحارم والمماليك (قوله زاد الزيلعي والصغير) يعني استثناه أيضا فلا تسقط نفقته المقتضى بها بمضي المدة كالزوجة، بخلاف سائر الأقارب …….. وفي الهداية: ولو قضى القاضي للولد والوالدين وذوي الأرحام بالنفقة فمضت مدة سقطت؛ لأن نفقة هؤلاء تجب كفاية للحاجة حتى لا تجب مع اليسار وقد حصلت بمضي المدة، بخلاف نفقة الزوجة إذا قضى بها القاضي؛ لأنها تجب مع يسارها فلا تسقط بحصول الاستغناء فيما مضى.
خیر الفتاوی(6/162) میں ہے:
اگر آپ کی ذاتی جائیداد اس قدر ہے کہ آپ اپنے نفقہ میں خود کفیل ہیں تو کسی بھی لڑکے پر آپ کا خرچہ شرعا لازم نہیں کیونکہ اولاد پر خرچہ اس وقت لازم ہوتا ہے جبکہ والد تنگ دست اور محتاج ہو ۔البتہ اگر اپنی ذاتی جائیداد نہیں اور آپ تنگ دست بھی ہیں تو پھر آپ کی اولاد پر آپ کے اخراجات و علاج معالجہ کا انتظام کرنا لازم ہے۔۔۔۔اور جو لڑکا خود محتاج اور فقیر ہے اس پر آپ کا نفقہ شرعا لازم نہیں۔ تاہم گزشتہ زمانے کا نفقہ کا مطالبہ اور دعوی شرعا درست نہیں بلکہ عدالت پنچایت یا باہمی رضامندی سے آئندہ نفقے کی جو مقدار متعین ہو جائے اس کی ادائیگی لازم ہے۔
خیر الفتاوی (6/169)
سوال: منظور احمد ایک ضعیف کمزور اور تنگ دست آدمی ہے۔ اس کا ایک بیٹا بھی ہے جو کہ صاحب حیثیت کمائی کرنے والا ہے لیکن باپ کو خرچہ وغیرہ نہیں دیتا ۔بہرحال اس کو متنبہ کیا گیا حتی کہ ایک مرتبہ پنچائت میں اس کو بلا کر فیصلہ کیا گیا کہ ماہانہ دو ہزار روپے والد کو دیا کرو اس پر راضی بھی ہو گیا لیکن اس فیصلے کو چھ ماہ گزر گئے ہیں اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔منظور احمد “ہدایا ” وغیرہ سے اپنا گزر بسر کرتا ہے ۔ اب کیا منظور احمد کو یہ حق حاصل ہے کہ عدالت میں مقدمہ دائر کر کے ان چھ ماہ کا خرچہ وصول کرے ؟
الجواب : صورت مسئولہ میں منظور احمد گزشتہ چھ ماہ کا خرچہ بذریعہ عدالت بھی وصول کرنے کا شرعا مجاز نہیں ۔
اذا فرضت عليه نفقة المحارم فاكلوا من مسالة الناس لا يرجع على الذي فرضت عليه النفقة بشيء (عالمگیری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved