- فتوی نمبر: 32-166
- تاریخ: 10 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ہمارے والد صاحب 2013ء میں فوت ہوئے، ہماری ایک بہن ان سے پہلے فوت ہوگئی تھی، ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں موجود ہیں کیا فوت شدہ بہن یا ان کے شوہر اور اولاد کو والد کی وراثت میں سے حصہ ملے گا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نہیں ملے گا اس لیے رسمی جواب چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کی فوت شدہ بہن کی اولاد اور ان کے شوہر کو آپ کے والد کی وراثت میں سے شرعاً حصہ نہیں ملے گا کیونکہ جو اولاد والدین سے پہلے فوت ہوجائے اس کو والدین کی وراثت میں سے شرعاً حصہ نہیں ملتا۔
الدر المختار (10/491) میں ہے:
وشروطه: ثلاثة: ………… ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved