• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیٹوں، بیٹیوں اور بہو میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

والد صاحب کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔  والد صاحب کی وفات کے وقت تمام حیات تھے۔ والد صاحب کی وفات کے بعد انکا ایک بیٹا وفات پا گیا۔ بیٹے کی کوئی اولاد نہیں،  بس ایک بیوہ ہے۔اس کے بعد اس  کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اس دوران والد صاحب کا ترکہ تقسیم نہیں ہوا۔

سوال یہ ہے کہ اب دو بیٹے، تین بیٹیاں اور ایک بیٹے کی بیوہ حیات ہیں۔ والد اور والدہ کے اثاثے کی تقسیم کے متعلق راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  والد کے ترکہ  کو 3024 حصوں میں تقسیم کرکے ان میں سے 822 حصے یعنی  (27.182) فیصد ہر بیٹے کو  ملے گا اور ہر بیٹی کو411 حصے یعنی (13.57) فیصد ملے گا اور بیٹے کی بیوہ کو 147 حصے یعنی (4.86) فیصد ملے گا ۔

والد صاحب کے ترکہ کے علاوہ  والدہ کے  ذاتی اثاثوں کو سات حصوں میں تقسیم کر کے ان میں سے دو، دو حصے دونوں بیٹوں کو ملیں گے اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو ملے گا ۔والدہ کے ذاتی اثاثوں میں سے فوت ہونے والے بیٹے کی بیوہ کا حصہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved