• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوہ، بیٹیوں اور بہن بھائیو ں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

ہمارا بھائی زید   ولد خالد  صحیح العقیدہ سنی مسلمان تھا۔  12 جنوری 2021 کو بھائی کا انتقال ہوگیا، جس وقت بھائی کا انتقال ہوا ہمارے والد بھی حیات تھے اور اب وفات پا چکے ہیں اور والدہ بھائی  زید  سے پہلے فوت ہو گئی تھیں۔ مرحوم  زید  کی ایک بیوہ ، دوبیٹیاں ،چار بہنیں اور دو بھائی  حیات ہیں مرحوم کے نام 600  مربع  فٹ کا ایک مکان ہے اور 11 مرلے 108 فٹ زرعی زمین کا ایک پلاٹ ہے  اس کی شرعی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم (زید )کی کل وراثت کے 192 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 24 حصے (12.5 فیصد)مرحوم (زید ) کی بیوی کو، 64 حصے (33.33 فیصد فی کس) مرحوم (زید )  کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو،   10 حصے ( 5.20 فیصد فی کس)  مرحوم (زید )  کے دونوں بھائیوں میں سے ہر بھائی کو،5 حصے (2.60 فیصد فی کس) مرحوم (زید ) کی چاروں بہنوں میں سے ہر بہن کو  ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved