- فتوی نمبر: 34-310
- تاریخ: 15 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > رضاعت کا بیان
استفتاء
میرے بھائی شاہ بہادر نے میری خالہ کا دودھ پیا تھا خالہ کی دو بیٹیاں ہیں ایک بڑی اور دوسری چھوٹی، بڑی بیٹی نے شاہ بہادر کے ساتھ خالہ کا دودھ پیا تھا میں نے اپنی خالہ کا دودھ نہیں پیا اور نہ ہی میری خالہ کی دونوں بیٹیوں نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے مذکورہ صورت حال کے پیش نظر کیا میرا (فريد الله کا ) نکاح خالہ کی چھوٹی بیٹی سے جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کا خالہ کی(چھوٹی)بیٹی سے نکاح جائز ہے۔
توجیہ: چونکہ آپ نے اپنی خالہ کا دودھ نہیں پیا جس کی وجہ سے آپ اپنی خالہ کے رضاعی بیٹے اور خالہ کی اولاد کے رضائی بہن بھائی نہیں بنے لہذا مذکورہ صورت میں آپ کا اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنا درست ہے۔
شامی (3/217) میں ہے:
في البحر عن آخر المبسوط: لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وجدها لأنها أختهم من الرضاعة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved