- فتوی نمبر: 34-220
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بسم اللّٰہ لکھنے پر سٹائل کرنا کیسا ہے ؟ کوئی پرندے کی شکل میں، کوئی بندوق کی شکل میں لکھتے ہیں اس کا کیا حکم ہوگا ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بسم اللہ لکھنے پر سٹائل بنانا تو جائز ہے البتہ کسی جاندار کی شکل بنانا جائز نہیں اور اسی طرح ایسی بے جان چیز کی صورت بنانا جس میں بسم اللہ کی حقارت و اہانت ہوتی ہو جائز نہیں ۔
توجیہ: بسم اللہ چونکہ قرآن مجید کی آیت ہے اور قرآن مجید کی آیت کو ایسی جگہ لکھنا جس جگہ آیت کی حقارت و اہانت ہوتی ہو جائز نہیں۔
شامی (1/648) میں ہے:
وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان…. وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى.
البحرالرائق (2/29) میں ہے:
وفي المغرب الصورة عام في كل ما يصور مشبها بخلق الله تعالى من ذوات الروح وغيرها وقولهم ويكره التصاوير المراد بها التماثيل فالحاصل أن الصورة عام والتماثيل خاص والمراد هنا الخاص فإن غير ذي الروح لا يكره كالشجر
شامی (2/247) میں ہے:
وتكره كتابة القرآن واسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى
کفایت المفتی (9/241) میں ہے:
(سوال) بعض حضرات کتابت میں بسم اللہ کو مرغ و شیر کی تصویر میں لکھتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں اگر جائز نہیں تو کاتب کے لئے کیا حکم ہے ؟
(جواب) کتابت میں تصویروں کی شکل بنانا ناجائز ہے اور خصوصاً بسم اللہ شریف جو قرآن پاک کی آیت ہے اس کی تصویر کی شکل بنانا بہت زیادہ مذموم ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved