- فتوی نمبر: 31-319
- تاریخ: 15 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میرا نام زید ولد خالد ہے، مفتی صاحب میری شادی کو 14 سال گزر گئے ہیں، میرے پانچ بچے ہیں، آج میں موبائل دیکھ رہا تھا تو میرے سامنے ایک پوسٹ آئی جس میں لکھا تھا کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو لڑائی کے دوران یہ کہے کہ “آج سے تم مجھ پر حرام ہو” تو طلاق ہو جاتی ہے، اسی طرح اگر لڑائی میں بیوی شوہر سے کہتی ہے کہ “تم میری جان چھوڑ دو” اور جواب میں شوہر کہتا ہے کہ “جا چلی جا میں نے تجھے چھوڑ دیا” یا پھر کہتا ہے کہ “میں نے تجھے فارغ کیا، تم بہت تنگ کرتی ہو” تو طلاق ہو جاتی ہے، اس پوسٹ کو پڑھ کر میں پریشان ہو گیا کہ ایسے واقعات تو کئی دفعہ ہماری زندگی میں بھی ہوئے ہیں یہ بات میں نے اپنی بیوی سے شیئر کی تو اس نے کہا کہ آپ ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں ہم تو خوشی سے زندگی بسر کر رہے ہیں، میں پریشان ہوں اور اللہ کی رضا کے لیے اس مسئلے کی تحقیق کر نا چاہتا ہوں اور اس کا حل چاہتا ہوں۔
ہمارے ساتھ یہ واقعات پیش آئے ہیں نمبر (1) تقریبا پانچ سال پہلے ایک رات میں اپنی بیوی کو ہمبستری کے لیے راضی کر رہا تھا اور ہم بغیر لباس کے تھے مگر وہ راضی نہ ہوئی اس پر مجھے غصہ آ گیا اور میں نے کہا کہ “آج سے تم مجھ پر حرام ہو” مگر صبح ہونے کے بعد میرا غصہ جاتا رہا اور شام تک ہماری صلح ہو گئی، اس واقعہ کے بعد نیا نکاح نہیں کیا تھا اور بیوی کو باقاعدگی سے ہر مہینے ماہواری بھی آتی رہی، (2) پہلے واقعہ کے ایک سال بعد یعنی تقریبا چار سال پہلے کی بات ہے ایک رات میری بیوی رات کو مجھ سے کسی معمولی بات پر بحث کرنا شروع ہو گئی، وہ اکثر چھوٹی سی بات پر بحث کرنا شروع کردیتی تھی، پھر میں نے اسے پاس آنے کو کہا تو اس نے انکار کر دیا، میں اس سے کہنے لگا کہ “ان باتوں کی وجہ سے لوگوں کی طلاق ہو جاتی ہے” لیکن میں نے کہہ دیا کہ “ان باتوں کی وجہ سے طلاق دے دی” جبکہ اس وقت میں یہ کہنا نہیں چاہتا تھا، (3) اس کے بعد یہ ہوا کہ ہم میاں بیوی اکثر چھوٹی چھوٹی بات پر بحث شروع کر دیتے تھے، کبھی پردے کا حکم دیتا ہوں کہ تم پردہ کرو تو اس پر بھی لڑائی ہو جاتی ہے، ایک دن بحث ہوئی جس پر میں نے اس کو کہا کہ “تم چپ ہو جاؤ” وہ چپ نہیں ہوئی تو پھر میں نے ہاتھ بھی اٹھا لیا، اس پر وہ اور غصہ ہو گئی، اور ہم دونوں نے اپنی اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا، میں نے اسے کہا کہ “تم نکل جاؤ، میں ایسی زبان دراز عورت کو نہیں رکھ سکتا” وہ کہنے لگی کہ “میں بھی تم جیسے مرد کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی چلی جاؤں گی” پھر “میں نے کہا کہ “جاؤ اب تم فارغ ہو، اب کورٹ میں ہی دوں گا تمہاری چیزیں وغیرہ” پھر شام تک امی وغیرہ نے سمجھایا تو صلح ہو گئی، آج مجھے علم ہوا کہ یہ بہت نازک معاملہ ہے، میں توبہ کرتا ہوں اور ان باتوں سے بچ کر گزر بسر کروں گا۔
(1) مذکورہ صورت میں طلاق ہو گئی ہےیا نہیں؟(2) اگر ہو گئی ہے کتنی ہوئی ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(2-1) مذکورہ صورت میں ايك بائنہ طلاقیں واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے، لہذا اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں، اور اب تک جو نکاح کے بغیر رہتے رہے ہیں اس پر توبہ و استغفار کریں۔
نوٹ: آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہو گا۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں جب پہلی مرتبہ شوہر نے بیوی کو یہ کہا کہ “آج سے تم مجھ پر حرام ہو” تو ان الفاظ سے ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی پھر چونکہ بیوی کو ہر مہینےباقاعدگی سے حیض آتا رہا لہذا تین حیض کے بعد عدت مکمل ہو گئی اور بیوی طلاق کا محل نہیں رہی لہذا باقی الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
درمختار مع ردالمحتار(5/80) میں ہے:
(قال لامرأته: أنت علي حرام) ونحو ذلك كأنت معي في الحرام (إيلاء إن نوى التحريم، أو لم ينو شيئا، وظهار إن نواه، وهدر إن نوى الكذب) وذا ديانة، وأما قضاء فإيلاء قهستاني (وتطليقة بائنة) إن نوى الطلاق وثلاث إن نواها ويفتى بأنه طلاق بائن (وإن لم ينوه) لغلبة العرف.
(قوله: لغلبة العرف) إشارة إلى ما في البحر، حيث قال: فإن قلت إذا وقع الطلاق بلا نية ينبغي أن يكون كالصريح فيكون الواقع به رجعيا قلت: المتعارف به إيقاع البائن، كذا في البزازية اهـ أقول: وفي هذا الجواب نظر فإنه يقتضي أنه لو لم يتعارف به إيقاع البائن يقع الرجعي كما في زماننا، فإن المتعارف الآن استعمال الحرام في الطلاق، ولا يميزون بين الرجعي والبائن فضلا عن أن يكون عرفهم فيه البائن، وعلى هذا فالتعليل بغلبة العرف لوقوع الطلاق به بلا نية، وأما كونه بائنا فلأنه مقتضى لفظ الحرام لأن الرجعي لا يحرم الزوجة ما دامت في العدة وإنما يصح وصفها بالحرام بالبائن، وهذا حاصل ما بسطناه في الكنايات فافهم.
درمختار (4/419) میں ہے:
(ومحله المنكوحة)
(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة.
فتاوی شامی(5/42) میں ہے:
وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved