- فتوی نمبر: 35-45
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
تحریر آنک نامہ
زید کی وفات کے وقت میں خالد، زید کے گھر موجود تھا اور اُسی دن میری روانگی واپس لندن کے لیے تھی۔ لیکن زید کے دنیا سے جانے کی وجہ سے میں زید کے گھر اُن کے وارثین کی مدد کے لیے 8 ماہ کے لیے رک گیا اور میں نے شاہ صاحب کے حکم سے اپنے بھائی کی وراثت کے معاملات کو سنبھال لیا۔ اس دوران میں نے زید کی وراثت کے مال کی تقسیم کی ذمہ داری لیتے ہوئے ان کے گھر سے قیمتی چیزوں کو تحویل میں لینے کی نیت سے گھر کی تلاشی شروع کر دی اور کچھ دن کی تلاشی کے دوران طلائی زیورات اور کچھ سونا مجھے گھر کے مختلف حصوں سے ملا۔ کچھ دن بعد فاطمہ (زید کی دوسری بیوی) نے مجھے تلاشی کے دوران کچھ سونا لا کر دیا اور یہ کہا کہ یہ سونا زید نے مجھے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سونا تمہارے بچوں کی شادیوں کے لیے ہے۔ پھر میں نے شاہ صاحب کو ساری تفصیل بتائی کہ یہ سونا فاطمہ نے مجھے یہ بتاتے ہوئے دیا ہے کہ یہ سونا زید نے یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ یہ تمہارے بچوں کی شادیوں کے لیے دیا ہے۔ اس بات کے جواب میں شاہ صاحب نے کہا کہ فاطمہ کو یہ مشورہ دو کہ اگر یہ سونا وہ سب وارثین میں تقسیم کر دے گی تو اندازاً ٪47 تو اُس کو واپس مل ہی جائے گا اور اس میں اُس کی عزت ہے۔ پھر میں نے وہ سونا فاطمہ کے حوالے کر دیا۔ اس سونے کا علم میرے علاوہ صرف بکر جو کہ زید کا بیٹا ہے، کو تھا۔ اور میں نے باقی وارثین کے علم میں لانے کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے فاطمہ کو دے دیا۔ کچھ دن بعد میں نے وہ سونا فاطمہ سے لے کر اُس کے وراثت کے مطابق تیرہ حصے بنا کر الگ الگ حصے بنا کر یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ اگر کبھی آپ کو یہ سونا باقی وارثوں کو دینا پڑے تو آپ کو مشکل نہ ہو اور میں واپس لندن روانہ ہو گیا۔
گواہ:
1۔ ضیاء 2۔واجد 3۔ عمر 4۔ رضوان
سوال یہ ہے کہ کیا یہ سونا سب میں تقسیم ہوگا یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے:(1) کیا فاطمہ کے پاس اس بات کے گواہ ہیں کہ زید نے وہ سونا بچوں کے لیے دیا تھا؟ (2) اس وقت بچوں کی عمریں کیا تھیں؟ (3) فاطمہ کے بقول جب زید نے اسے یہ سونا دیا تھا اس وقت وہ تندرست تھے یا مرض الموت میں تھے؟ (4) زید کے دیگر ورثاء کون ہیں؟
جواب وضاحت:(1) نہیں فاطمہ کے پاس کوئی گواہ نہ تھا۔ (2) بڑی بیٹی کی عمر 15 سال، بڑا بیٹا تقریبا 13 سال، تیسری بیٹی 10 سال،چوتھی 4 سال اور سب سے چھوٹا بچہ کچھ ماہ کا تھا ایک سال سے کم۔ (3) تندرست تھے۔ (4) دو بیویاں اور گیارہ بچے ہیں۔ پہلی بیوی سے 6 بچے، 2 لڑکے اور 4 لڑکیاں، دوسری بیوی(فاطمہ ) سے 5 بچے، 2 لڑکے اور 3 لڑکیاں ہیں۔
نوٹ از دارالافتاء : سائل سے فاطمہ کا بیان لینے کے لیے کوئی رابطہ نمبر دینے کو کہا تو اس نے ایک نمبر (*****) یہ کہہ کر دیا کہ یہ فاطمہ کے بیٹے کا نمبر ہے اس پر فاطمہ سے بیان لیا جا سکتا ہے۔ اس نمبر پر رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ یہ فاطمہ کے داماد کا نمبر ہے اور وہ فاطمہ سے بات کروانے پر راضی نہیں ہوا۔ اس لیے مذکورہ جواب فاطمہ کے بیان کے بغیر ہی دیا جا رہا ہے۔ اگر فاطمہ کا بیان سوال میں ذکر کردہ بیان سے مختلف ہوا تو یہ جواب کالعدم ہوگا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید کا مقصود بظاہر یہ سونا فاطمہ کو دینا تھا اور چونکہ فاطمہ کا اس پر قبضہ ہو چکا لہٰذا ہبہ تام ہو گیا اور اب یہ سونا فاطمہ کی ملکیت ہوگا اور دیگر ورثاء میں تقسیم نہ ہوگا۔ اور اگر زید کا مقصود خود بچوں کو دینا تھا تو پھر بھی یہ ہبہ تام ہو گیا کیونکہ جو بچے اس وقت نابالغ تھے ان کے حق میں تو باپ کے کہنے سے ہی ہبہ تام ہو گیا کیونکہ باپ کے اپنے نابالغ بچوں کو ہبہ کرنے میں قبضہ شرط نہیں۔ اور جو بچے بالغ تھے ان کے حق میں اگرچہ فقہ حنفی کی رو سے یہ ہبہ درست نہیں ہوا کیونکہ یہ سونا ان کے قبضے میں نہیں دیا گیا اور حنفیہ کے نزدیک ہبہ میں قبضہ شرط ہے تاہم بعض دیگر ائمہ کے نزدیک قبضہ شرط نہیں اور ہبہ کرنے والا فوت بھی ہو گیا جس کی وجہ سے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی اصل غرض کیا تھی لہٰذا ایسی مجبوری کی صورت میں دیگر ائمہ کے قول کے پیش نظر بالغ کے حق میں بھی اس ہدیہ کو تام سمجھا جائے گا۔
یہ سب تفصیل اس صورت میں ہے جب دیگر ورثاء اس بات کو تسلیم کر لیں کہ یہ سونا زید نے فاطمہ کو یہ کہہ کر دیا تھا کہ “یہ سونا تمہارے بچوں کی شادیوں کے لیے ہے”۔ اور اگر دیگر ورثاء اس کو تسلیم نہ کریں اور اس بات پر قسم کھا لیں کہ وہ نہیں جانتے کہ زید نے فاطمہ کو یہ کہہ کر سونا دیا تھا تو اس صورت میں یہ سونا سب ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
سنن ترمذی(رقم الحدیث:1390) میں ہے:
عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه.
الدر المختار(5/690) میں ہے:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل
ہدایہ(3/224) میں ہے:
(وإذا وهب الأب لابنه الصغير هبة ملكها الابن بالعقد) لأنه في قبض الأب فينوب عن قبض الهبة
بدائع الصنائع(6/123) میں ہے:
والكلام في هذا الشرط في موضعين في بيان أصل القبض أنه شرط أم لا؟ وفي بيان شرائط صحة القبض.
(أما) الأول فقد اختلف فيه قال عامة العلماء شرط والموهوب قبل القبض على ملك الواهب يتصرف فيه كيف شاء وقال مالك رحمه الله ليس بشرط ويملكه الموهوب له من غير قبض.
الدر المختار(5/552) میں ہے:
(التحليف على فعل نفسه يكون على البتات) أي القطع بأنه ليس كذلك (و) التحليف (على فعل غيره) يكون (على العلم) أي إنه لا يعلم أنه كذلك لعدم علمه بما فعل غيره ظاهرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved