- فتوی نمبر: 34-321
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید کا انتقال ہو گیا ۔زید کی ایک بیوی ، دو بھائی اور ایک بہن ہے ۔ ان دو بھائیوں کے علاوہ ایک بھائی کئی سالوں سے لا پتہ ہے، معلوم نہیں کہ زندہ ہے یا نہیں؟ اس کی تلاش جاری ہے اور وہ اچانک غائب ہوا تھا، زید کے والد کی دوسری بیوی یعنی اس کی سوتیلی ماں سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں بھی ہیں۔ زید کے والد اور والدہ دونوں زید سے پہلے انتقال کر گئے تھے ،زید کے نام پر تین مرلے کا پلاٹ ہے جو اس کی ملکیت میں تھا اور اس کے نام پر ہے اس پلاٹ کی مالیت 15 لاکھ ہے،اب ان ورثاء میں اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم زید کےکل ترکہ کو 28 حصوں میں تقسیم کر کے ان میں سے 7حصے(25فیصد) مرحوم کی بیوی کو ، 6,6 حصے ( 21.43 فیصدفی کس) تین بھائیوں میں سے ہر بھائی کو اور 3حصے(10.71 فیصد ) مرحوم کی بہن کوملیں گے ۔ نیز مذکورہ صورت میں سوتیلی ماں اور علاتی بہن بھائی وارث نہیں بنیں گے۔
اور مالیت کے اعتبار سے 15 لاکھ میں سے 3,75,000 مرحوم کی بیوی کو ،3,21,428.57 فی بھائی کو، اور 1,60,714.28 روپے بہن کو ملیں گے۔
البتہ لا پتہ بھائی کے حصے کا مال محفوظ رکھا جائے گا، اگر لاپتہ بھائی اپنے ہم عمر لوگوں کے مرنے سے پہلے واپس آجائے تو اس کا مال اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر وہ اپنے ہم عمر لوگوں کے مرنے تک واپس نہ آئے تو اس کے ہم عمروں کے مرنے کے بعد عدالت میں درخواست دے کر لاپتہ بھائی کی موت کا حکم حاصل کیا جائے گا، اس میں احتیاط ہے۔ اور اگر عدالتی کاروائی میں دشواری ہو تو عدالتی کاروائی کے بغیر ہی لاپتہ بھائی کے مال کو اس کے بھائیوں اور بہن یا ان کی اولاد میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردیا جائے گا۔
اس کے بعد بھی اگر لاپتہ بھائی واپس آ جائے تو اس کے مال میں سے جو کچھ خرچ ہو چکا ہو گا اس کا مطالبہ نہ ہو گا اور جو باقی ہو گا وہ اس کو واپس دے دیا جائے گا۔
شامی (4/ 298) میں ہے:
(فإن ظهر قبله) قبل موت أقرانه (حيا فله ذلك) القسط وبعده يحكم بموته في حق ماله يوم علم ذلك) أي موت أقرانه (فتعتد) منه (عرسه للموت ويقسم ماله بين من يرثه الآن و) يحكم بموته (في) حق (مال غيره من حين فقده فيرد الموقوف له إلى من يرث مورثه عند موته) لما تقرر أن الاستصحاب وهو ظاهر الحال حجة دافعة لا مثبتة (ولو كان مع المفقود وارث يحجب به لم يعط) الوارث (شيئا، وإن انتقض حقه) به (أعطي أقل النصيبين) ويوقف الباقي (كالحمل) ومحله الفرائض، ولذا حذفه القدوري وغيره.
(قوله: بين من يرثه الآن) أي حين حكم بموته لا من مات قبل ذلك الوقت من ورثته زيلعي، وكذا يحكم بعتق مدبريه وأمهات أولاده في ذلك الوقت بحر (قوله: من حين فقده) أي ما لم تعلم حياته في وقت كما مر (قوله: عند موته) أي موت المورث
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع (6/ 196) میں ہے:
وأما حال المفقود: فعبارة مشايخنا رحمهم الله عن حاله أنه حي في حق نفسه ميت في حق غيره، والشخص الواحد لا يكون حيا وميتا حقيقة لما فيه من الاستحالة ولكن معنى هذه العبارة أنه (تجري) عليه أحكام (الأحياء) فيما كان له فلا يورث ماله ولا تبين امرأته كأنه حي حقيقة (وتجري) عليه أحكام الأموات فيما لم يكن له فلا يرث أحدا كأنه ميت حقيقة؛ لأن الثابت باستصحاب الحال يصلح لإبقاء ما كان على ما كان ولا يصلح لإثبات ما لم يكن وملكه في أحكام أمواله ونسائه أمر قد كان واستصحبنا حال الحياة لإبقائه وأما ملكه في مال غيره: فأمر لم يكن فتقع الحاجة إلى الإثبات واستصحاب الحال لا يصلح حجة لإثبات ما لم يكن، وتحقيق العبارة عن حاله أن غير معلوم، يحتمل أنه حي ويحتمل أنه ميت، وهذا يمنع التوارث والبينونة؛ لأنه إن كان حيا يرث أقاربه ولا يرثونه ولا تبين امرأته، وإن كان ميتا لا يرث أقاربه ويرثونه والإرث من الجانبين أمر لم يكن ثابتا بيقين فوقع الشك في ثبوته فلا يثبت بالشك والاحتمال، وكذلك البينونة على الأصل المعهود في ” الثابت بيقين لا يزول بالشك، وغير الثابت بيقين لا يثبت بالشك ” فإذا مات واحد من أقاربه يوقف نصيبه إلى أن يظهر حاله أنه حي أم ميت لاحتمال الحياة والموت للحال حتى إن من هلك وترك ابنا مفقودا وابنتين وابن ابن وطلبت الابنتان الميراث فإن القاضي يقضي لهما بالنصف ويوقف النصف الثاني إلى أن يظهر حاله؛ لأنه إن كان حيا كان له النصف والنصف للابنتين ولا شيء لابن الابن وإن كان ميتا كان للابنتين الثلثان والباقي لابن الابن فكان استحقاق النصف للابنتين ثابتا بيقين فيدفع ذلك إليهما ويوقف النصف الآخر إلى أن يظهر حاله فإن لم يظهر حتى مضت المدة التي يعرف فيها موته يدفع الثلثان إليهما والباقي لابن الابن»
سراجی (54) میں ہے:
المفقود حي في ماله حتى لا يرث منه أحد و ميت في مال غيره حتى لا يرث من أحد و يوقف ماله حتى يصح موته أو تمضي عليه مدة، و اختلف الروايات في تلك المدة ففي ظاهر الرواية أنه إذا لم يبق أحد من أقرانه حكم بموته …………….فإذا مضت المدة فماله لورثته الموجودين عند الحكم بموته.
احسن الفتاوی (9/309) میں ہے:
سوال: ایک عورت کے انتقال ہو گیا اس کے ورثاء میں صرف اس کا ایک چچا محمد اسماعیل رہ گیا جو کہ عرصہ تیس سال سے لاپتہ ہے کچھ علم نہیں ہے کہ وہ مر چکا ہے یا زندہ ہے مرحومہ کی نہ اولاد ہے اور نہ والدین وغیرہ البتہ ایک شخص جس کا نام سائیں محمد ہے جو مرحومہ کے دادا کے بھائی کا پوتا کہلاتا ہے وہ زندہ ہے آیا اس کی میراث کا حقدار اس کا وہ مفقود چچا ہی ہوگا یا اس کے دادا کے بھائی کا پوتا بھی ؟ اور شریفیہ شرح سراجی کی اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟المفقود حي في ماله حتى لا يرث منه أحد وميت في مال غيره حتى لا يرث من أحد لثبوت حياته باستصحاب الحال وهو معتبر في ابقاء ما كان على ما كان دون اثبات ما لم يكن الخ.
جواب: جب مفقود کی عمر نوے برس ہو جائے تو اپنے مال میں مردہ سمجھا جائے گا اور اس کا مال اس وقت موجود وارثوں پر تقسیم ہوگا نوے برس کی عمر ہونے سے پہلے اپنے مال میں زندہ ہے لہذا اس زمانہ میں کوئی شخص اس کے مال میں دخیل کار نہیں ہو سکتا اور غیر کے مال میں جب سے مفقود ہوا اس وقت سے مردہ متصور ہوگا یعنی اگر کوئی شخص اس کے مفقود ہونے کے بعد مر گیا تو یہ مفقود اس کا وارث نہ ہوگا اگرچہ مفقود کی عمر ابھی تک نوے برس نہ ہوئی ہو مگر چونکہ غیر کے مال میں بھی مردہ ہونے کا حکم نوے برس کی عمر کے بعد ہی ظاہر ہوتا ہے اس سے پہلے اس کے واپس آ کر وارث بن جانے کا احتمال ہے اس لیے اس میت کے مال سے مفقود کا حصہ امانت رکھا جائے گا اگر واپس آگیا تو اس کو مل جائے گا ورنہ نوےبرس کی عمر ہو جانے کے بعد جس میت کے مال سے امانت رکھا تھا اس کے وارثوں پر لوٹایا جائے گا جو میت کی انتقال کے وقت زندہ تھے موجودہ وارثوں کا اعتبار نہیں اور نہ ہی مفقود کے ورثاء کا اس میں کوئی حق ہے۔
امداد الاحکام (4/621)میں ہے:
پس اگر پردادا کی جائیداد سے مفقود کو حصہ مل چکا تھا مثلا وہ پردادا کے انتقال کے بعد مفقود ہوا تب تو پردادا کی جائیداد تین سہام پر منقسم ہو کر ایک حصہ مفقود کا محفوظ کیا جاوے اور بقیہ دو حصے تو تہائی میں تقسیم کیے جائیں اور اگر وہ پردادا کی حیات میں ہی مفقود ہو گیا تو اب پردادا کی جائیداد کا یہ وارث نہیں ہے لأنه ميت في غيره لیکن اس کا حصہ محفوظ رکھنا پھر بھی ضروری ہے حتى يتبين الامر وفى الدرر أيضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved