- فتوی نمبر: 34-275
- تاریخ: 07 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے چچا زاد بھائی بہن تھے اور ان کے والدین فوت ہو گئے تھے ان کے پاس وراثت کی زمین تھی پھر میرے چچا زاد بھائی بہن بھی فوت ہو گئے اور انکی ابھی شادیاں بھی نہیں ہوئی تھیں اور میرا کوئی چچا تایا بھی حیات نہیں اور میرا کوئی بھائی بھی حیات نہیں بس میں اور میری ایک دو ہمشیرہ حیات ہیں اب عدالت نے میرے چچا زاد بھائی بہن والی زمین مجھے دیدی ہے .اب مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ شرعی اعتبار سے میری بہنوں کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟ اگر بنتا ہے تو کتنا ؟ اور اگر نہیں بنتا تو کیا میں اپنی طرف سے کچھ حصہ ان کو دے سکتا ہوں یا نہیں ؟
وضاحت مطلوب ہے: وراثت کا اصل مالک کون تھا؟
جواب وضاحت: وراثت کے اصل مالک چچا کے بیٹے تھے اب چچا کے بیٹے بھی شادی کیے بغیر فوت ہو گئے اور چچا کی بیٹیاں بھی شادی کے بغیر فوت ہو گئی ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس وراثت میں آپ کی بہنوں کا حصہ تو نہیں ہے لیکن اگر آپ اپنی خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
توجیہ: چچا کے بیٹے کی وجہ سے چچا کی بیٹی عصبہ نہیں بنتی۔
ہندیہ (6/451) میں ہے:
وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق، كذا في خزانة المفتين
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved