• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چند ممنوعات ِ احرام کی تحقیق

استفتاء

احرام کے ممنوعہ کام

ا۔ بال کاٹنا۔۲۔ ہاتھ یا پاؤں کے ناخن کاٹنا۔٣۔ احرام پہننے کے بعد خوشبو استعمال کرنا۔۴۔ مردوں کا سر ڈھانکنا (کسی ایسی چیز سے جو سر سے ملی ہوئی ہو۔)۵۔ مردوں کے لیے سلا ہوا لباس پہننا۔٦۔ عورت کا دستانے اور نقاب استعمال کرنا۔ ٧۔ شہوت کے ساتھ چھونا۔

ممنوعہ کاموں کا فدیہ

ان ممنوعہ کاموں کا ارتکاب کرنے پر اسے اختیار حاصل ہے کہ: وہ  تین دن روزے رکھے، یا پھر چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یا پھر مکہ میں یا ممنوعہ کام کرنے کی جگہ پر ایک جانور (دنبہ، بکرا وغیرہ) ذبح کر کے فقراء میں تقسیم کر دے۔

اور اگر ایسا بھول سے ہو گیا یا پھر اسے حکم شریعت کا کوئی علم نہیں تھا تو پھر اس پر کوئی بھی گناہ یا فدیہ نہیں۔

احرام کے ممنوعہ کاموں میں سے درج ذیل امور بھی ہیں:

نکاح کرنا: اس پر کوئی فدیہ نہیں۔

شکار کرنا: شکار کردہ جانور کے مماثل فدیہ ہے۔

ہمبستری: اس میں ایک بھیڑ (فدیہ) ہے۔ عمرہ فاسد ہو جائے گا لیکن پھر بھی اسے پورا کرنا واجب ہوگا۔ اور اس پر اس عمرہ کی قضاء بھی ہوگی۔(مسنون عمرہ ویلیہ جوامع الدعاء مؤلفہ شیخ الاسلام امام عبد العزیز بن عبداللہ بن باز)

کیا یہ مسائل درست ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ  مسائل میں سے متعدد مسائل فقہ حنفی کی رو سے درست نہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ احرام کے ممنوعہ کاموں میں نمبر (٣) پر لکھا ہے “احرام پہننے کے بعد خوشبو استعمال کرنا” اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ احرام سے پہلے مطلقاً خوشبو کا استعمال جائز ہے جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ احرام سے پہلے  بدن پر تو ہر قسم کی خوشبو جائز ہے لیکن احرام کے کپڑوں پر صرف وہ خوشبو جائز ہے جس کی عین کپڑوں پر باقی نہ رہے جس  کی عین کپڑوں پر باقی رہے وہ جائز نہیں جیسے مشک غالیہ وغیرہ۔

2۔ احرام کے ممنوعہ کاموں میں نمبر (٦) میں لکھا ہے “عورت کا دستانے اور نقاب استعمال کرنا” جبکہ احناف کے نزدیک عورت کا حالت احرام دستانے پہننا جائز ہے اور نقاب بھی تب جائز نہیں جب وہ نقاب چہرے کو لگے، اس کے بجائے ایسے طریقے سے نقاب استعمال کرنا جو چہرے کو نہ لگے جائز بلکہ ضروری ہے۔

3۔ “ممنوعہ کاموں کا فدیہ” کے عنوان کے تحت جس اختیار کا ذکر کیا گیا ہے احناف کے نزدیک وہ مطلقاً نہیں بلکہ اس صورت میں ہے جب ممنوعہ کام عذر کی وجہ سے کیے گئے ہوں لہٰذا اگر بلا عذر ممنوعات احرام میں سے کسی کا ارتکاب کرے تو پھر مذکورہ تفصیل نہیں بلکہ بعض صورتوں میں دم متعین ہے اور بعض صورتوں میں نصف صاع یعنی تقریباً پونے دو کلو گندم صدقہ کرنا متعین ہے ۔ نیز عذر کی حالت میں کرنے میں بھی اگر جانور ذبح کرنا ہو تو اسے حدود حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے۔

4۔ “ممنوعہ کاموں کا فدیہ” کے عنوان کے تحت جو یہ بات لکھی ہے کہ “اگر ایسا بھول سے یا لا علمی میں ہو گیا تو اس پر کوئی گناہ یا فدیہ نہیں” یہ بھی درست نہیں بلکہ ممنوعات احرام کا ارتکاب جان بوجھ کر کرے یا  بھول کر کرے  ہر حالت میں جزاء واجب ہوتی ہے۔

5۔ ممنوعہ کاموں کا فدیہ کے عنوان کے تحت جو یہ لکھا گیا ہے کہ “یا پھر مکہ  میں یا ممنوعہ کام کرنے کی جگہ پر ایک جانور ذبح کر کے فقراء میں تقسیم کرے” درست نہیں بلکہ ممنوعہ کام کی جگہ اگر حرم کی حدود سے باہر ہو تو ممنوعہ کام کی جگہ جانور ذبح کرنا جائز نہیں بلکہ حرم کی حدود میں ذبح کرنا ضروری ہوگا۔

6۔ احرام کے ممنوعہ کاموں میں نکاح کو بھی ذکر کیا گیا ہے جبکہ حالت احرام میں نکاح کرنا احناف کے نزدیک جائز ہے۔

ہندیہ (1/222) میں ہے:

وأجمعوا على أنه ‌يجوز ‌التطيب قبل الإحرام بما لا يبقى عينه بعد الإحرام وإن بقيت رائحته، وكذا التطيب بما يبقى عينه بعد الإحرام كالمسك، والغالية عندنا لا يكره في الروايات الظاهرة، كذا في فتاوى قاضي خان، وهو الصحيح هكذا في المحيط ولا ‌يجوز ‌التطيب في الثوب بما يبقى عينه على قول الكل على إحدى الروايتين عنهما قالوا: وبه نأخذ كذا في البحر الرائق

البحر الرائق (3/77) میں ہے:

(قوله: ‌وخص ‌ذبح ‌هدي المتعة والقران بيوم النحر فقط والكل بالحرم لا بفقيره) بيان لكون الهدي موقتا بالمكان سواء كان دم شكر أو جناية

بدائع الصنائع(2/186) میں ہے:

وأما لبس القفازين فلا يكره عندنا وهو قول علي، وعائشة رضي الله عنهما

بدائع الصنائع(2/186) میں ہے:

والأصل أن الارتفاق الكامل باللبس يوجب فداء كاملا فيتعين فيه الدم، لا يجوز غيره إن فعله من غير عذر، وإن فعله لعذر فعليه أحد الأشياء الثلاثة، والارتفاق القاصر يوجب فداء قاصرا وهو: الصدقة إثباتا للحكم على قدر العلة وبيان هذه الجملة إذا لبس المخيط: من قميص، أو جبة، أو سراويل، أو عمامة، أو قلنسوة أو خفين، أو جوربين من غير عذر وضرورة يوما كاملا فعليه الدم لا يجوز غيره؛ لأن لبس أحد هذه الأشياء يوما كاملا ارتفاق كامل فيوجب كفارة كاملة وهي: الدم لا يجوز غيره؛ لأنه فعله من غير ضرورة، وإن لبس أقل من يوم لا دم عليه وعليه الصدقة

بدائع الصنائع(2/187) میں ہے:

فأما إذا لبسه لعذر وضرورة فعليه أي الكفارات شاء الصيام، أو الصدقة، أو الدم.

والأصل فيه قوله تعالى في كفارة الحلق من مرض أو أذى في الرأس {فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك} [البقرة: 196] وروينا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «قال لكعب بن عجرة: أيؤذيك هوام رأسك؟ قال: نعم فقال: احلق واذبح شاة، أو صم ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين، لكل مسكين نصف صاع من بر

بدائع الصنائع(2/188) میں ہے:

ويستوي في وجوب الكفارة بلبس المخيط العمد، والسهو، والطوع، والكره عندنا

بدائع الصنائع(2/189) میں ہے:

فإن طيب عضوا كاملا: كالرأس، والفخذ، والساق ونحو ذلك فعليه دم، وإن طيب أقل من عضو فعليه صدقة.

بدائع الصنائع(2/192) میں ہے:

فإن حلق رأسه، فإن حلقه من غير عذر فعليه دم لا يجزيه غيره؛ لأنه ارتفاق كامل من غير ضرورة، وإن حلقه لعذر فعليه أحد الأشياء الثلاثة………. وإن حلق ثلثه أو ربعه فعليه دم، وإن حلق دون الربع، فعليه صدقة كذا ذكر في ظاهر الرواية

بدائع الصنائع(2/193) میں ہے:

ولو أخذ شيئا من رأسه أو لحيته، أو لمس شيئا من ذلك فانتثر منه شعرة فعليه صدقة لوجود الارتفاق بإزالة التفث

بدائع الصنائع(2/194) میں ہے:

فإن قلم أظافير يد أو رجل من غير عذر وضرورة فعليه دم؛ لأنه ارتفاق كامل فتكاملت الجناية فتجب كفارة كاملة.

وإن قلم أقل من يد أو رجل فعليه صدقة لكل ظفر نصف صاع وهذا قول أصحابنا الثلاثة

ہدایہ(1/189) میں ہے:

ويجوز للمحرم والمحرمة أن يتزوجا في حالة الإحرام

شامی(2/557) میں ہے:

(وإن طيب أو حلق) أو لبس (بعذر) خير إن شاء (ذبح) في الحرم (أو تصدق ثلاثة أصوع طعام على ستة مساكين) أين شاء (أو صام ثلاثة أيام) ولو متفرقة

شامی(2/573) میں ہے:

وكل صدقة في الإحرام غير مقدرة فهي نصف صاع من بر

عمدۃ الفقہ(4/158) میں ہے:

غیر محرموں کی موجودگی میں لکڑی یا گتا وغیرہ کوئی چیز سر پر رکھ کر چہرے پر کپڑا ڈال لینا ممکن ہو تو عورت کے لیے پردہ کرنا واجب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved