• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چرس، سگریٹ اور نسوار کی خرید وفروخت کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

1۔  چرس بیچنا اور خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟

2۔ اگر نہیں تو حرام ہونے کی وجہ کیا ہے؟

3۔نیز یہ کہ سگریٹ اور نسوار بھی اسی میں شامل ہیں؟

4۔  اگر نہیں تو نشہ آور ہونے کی وجہ سے اس کا  خریدنا اور بیچنا حرام کیوں نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1،2۔  چرس بیچنا اور خریدنا جائز ہے البتہ نشہ کرنے کی غرض سے خریدنا جائز نہیں اور اگر بیچنے والے کو یقینی طور پر  معلوم ہو  یا غالب گمان ہو کہ خریدنے والا اسے نشہ کے لیے استعمال کرے گا تو ایسے شخص کے ہاتھ بیچنا  اور ایسے شخص کا خریدنا جائز نہیں۔

توجیہ: کسی چیز کی خرید و فروخت کے جائز ہونے کا اصول یہ ہے کہ جس چیز کا جائز اور ناجائز دونوں طرح کا استعمال موجود ہو تو اس چیز کو جائز استعمال کے لیے خریدنا ، فروخت کرنا جائز ہے اور ناجائز استعمال کے لیے خریدنا، فروخت کرنا ناجائز ہے چرس کا بھی چونکہ جائز اور ناجائز دونوں طرح کا استعمال موجود ہے مثلاً چرس کا جائز استعمال یہ ہے کہ اسے بطور دوا کے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور ناجائز استعمال یہ ہے کہ اسے نشہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے لہذا چرس کا جائز استعمال کے لیے خریدنا، فروخت کرنا جائز ہوگا اور ناجائز استعمال کے لیے خریدنا،فروخت کرنا ناجائز ہوگا.

3،4۔ سگریٹ اور نسوار کا بیچنا اور خریدنا جائز ہے اور یہ چرس کے حکم میں شامل نہیں کیونکہ اگرچہ سگریٹ اور نسوار میں تمباکو استعمال ہوتا ہے اور بعض حضرات نے تمباکو کو نشہ آور بھی کہا ہے تا ہم ہماری معلومات کے مطابق  سگریٹ اور نسوار میں جو تمباکو استعمال ہوتا ہے وہ نشہ آور نہیں ہوتا،تا ہم اگر کسی کی تحقیق میں سگریٹ اور نسوار میں استعمال ہونے والا تمباکو نشہ آور ہو تو پھر اس کا حکم بھی چرس والا ہوگا۔

شامی (10/49) میں ہے:

قلت: ونقل شيخنا النجم الغزي الشافعي في شرحه على منظومة ‌أبيه ‌البدر المتعلقة بالكبائر والصغائر عن ابن حجر المكي أنه صرح بتحريم جوزه الطيب بإجماع الأئمة الأربعة وأنها مسكرة. ثم قال شيخنا النجم: والتتن الذي حدث وكان حدوثه بدمشق في سنة خمسة عشر بعد الألف يدعي شاربه أنه لا يسكر وإن سلم له فإنه مفتر وهو حرام لحديث أحمد عن أم سلمة قالت «نهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عن كل مسكر ومفتر» قال: وليس من الكبائر تناوله المرة والمرتين، ومع نهي ولي الأمر عنه حرم قطعا، على أن استعماله ربما أضر بالبدن، نعم الإصرار عليه كبيرة كسائر الصغائر اهـ بحروفه. وفي الأشباه في قاعدة: الأصل الإباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول سمته اهـ.

قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقا له بالثوم والبصل بالأولى فتدبر

وفى الشامية: (قوله والتتن إلخ) أقول: قد ‌اضطربت ‌آراء العلماء فيه، فبعضهم قال بكراهته، وبعضهم قال بحرمته، وبعضهم بإباحته، وأفردوه بالتأليف. وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ويمنع من بيع الدخان وشربه وشاربه في الصوم لا شك يفطر وفي شرح العلامة الشيخ إسماعيل النابلسي والد سيدنا عبد الغني على شرح الدرر بعد نقله أن للزوج منع الزوجة من أكل الثوم والبصل وكل ما ينتن الفم. قال: ومقتضاه المنع من شربها التتن لأنه ينتن الفم خصوصا إذا كان الزوج لا يشربه أعاذنا الله تعالى منه. وقد أفتى بالمنع من شربه شيخ مشايخنا المسيري وغيره اهـ. وللعلامة الشيخ علي الأجهوري المالكي رسالة في حله نقل فيها أنه أفتى بحله من يعتمد عليه من أئمة المذاهب الأربعة.

قلت: وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان، وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره، بل ثبت له منافع، فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل، وقد توقف النبي – صلى الله عليه وسلم – مع أنه هو المشرع في تحريم الخمر أم الخبائث حتى نزل عليه النص القطعي، فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف وجميع من في بيته أن يقول هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعا لا شرعا إلى آخر ما أطال به  رحمه الله تعالى ، وهذا الذي يعطيه كلام الشارح هنا حيث أعقب كلام شيخنا النجم بكلام الأشباه وبكلام شيخه العمادي وإن كان في الدر المنتقى جزم بالحرمة، لكن لا لذاته بل لورود النهي السلطاني عن استعماله

(قوله ‌فيفهم ‌منه ‌حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه (قوله وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته) أقول: ظاهر كلام العمادي أنه مكروه تحريما ويفسق متعاطيه، فإنه قال في فصل الجماعة. ويكره الاقتداء بالمعروف بأكل الربا أو شيء من المحرمات، أو يداوم الإسرار على شيء من البدع المكروهات كالدخان المبتدع في هذا الزمان ولا سيما بعد صدور منع السلطان اهـ. ورد عليه سيدنا عبد الغني في شرح الهدية بما حاصله ما قدمناه، فقول الشارح إلحاقا له بالثوم والبصل فيه نظر، إذ لا يناسب كلام العمادي، نعم إلحاقه بما ذكر هو الإنصاف. قال أبو السعود: فتكون الكراهة تنزيهية، والمكروه تنزيها يجامع الإباحة اهـ. وقال ط: ويؤخذ منه كراهة التحريم في المسجد للنهي الوارد في الثوم والبصل وهو ملحق بهما، والظاهر كراهة تعاطيه حال القراءة لما فيه من الإخلال بتعظيم كتاب الله تعالى

فتاویٰ بزازیہ (9/265) میں ہے:

وشرب البنج  للتداوي لا بأس به.

شامی (9/644) میں  ہے:

(و) جاز (‌بيع ‌عصير) ‌عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا).

(قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف.

شامی(6/67) میں ہے:

وبه علم ‌أن ‌المراد ‌الأشربة المائعة، وأن البنج ونحوه من الجامدات إنما يحرم إذا أراد به السكر وهو الكثير منه، دون القليل المراد به التداوي ونحوه كالتطيب بالعنبر وجوزة الطيب، ونظير ذلك ما كان سميا قتالا كالمحمودة وهي السقمونيا ونحوها من الأدوية السمية

تنقیح الحامدیۃ (2/366) میں ہے:

وبالجملة إن ثبت في هذا الدخان ‌إضرار ‌صرف خال عن المنافع فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه فالأصل حله مع أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين.

مرقاۃ المفاتیح (7/238) میں ہے:

(نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل مسكر ومفتر) بكسر التاء المخففة، وفي النهاية: المفتر هو الذي ‌إذا ‌شرب ‌أحمى الجسد وصار فيه فتور وهو ضعف وانكسار ….. قال الطيبي: لا يبعد أن يستدل على تحريم البنج والشعثاء ونحوهما مما يفتر ويزيل العقل ; لأن العلة وهي إزالة العقل مطردة فيها.

الجوہرۃ النیرۃ (2/270) میں ہے:

‌ولا ‌يجوز ‌أكل ‌البنج، والحشيشة، والأفيون وذلك كله حرام لأنه يفسد العقل حتى يصير الرجل فيه خلاعة وفساد ويصده عن ذكر الله وعن الصلاة.

تکملہ فتح الملہم(3/342) میں ہے:

ولذلك أفتى كثير من الحنفيه بقول الجمهور في حق الحرمة وبقول ابي حنيفة رحمه الله في جواز بيع غير الخمر وعدم وجوب الحد منه إلا إذا أسكر وقد صرح ابن عابدين في الأشربة من رد المحتار بأن الفتوي على قول ابي حنيفة في جواز البيع مع الكراهة والظاهر ان هذا الكراهة  انما تثبت اذا تعاطاه الرجل لغرض غير مشروع واما اذا تعاطاه لغرض مشروع كالدواء والضماد وغيره فيما يجوز استعماله فيه فالظاهر انتفاء الكراهة حينئذ

امداد الفتاویٰ   (4/97)میں ہے:

سوال:    حقّہ پینا کیسا ہے اور اصل میں وہ کیا ہے؟

الجواب: یہ حقہ قریب تین سوبرس ہوئے کہ کفّار نے نکالا ہے، پھر سب میں شائع ہوگیا اور اصل میں یہ ایک دوا ہے، بعض امراض کو نافع بھی ہے، اور کثرت اس کی مضر ہے۔ کما یعلم من کتب الطب۔اب پینے والوں کی مختلف غرضیں ہیں ، مختلف مزاج ہیں ، مختلف طور ہیں اور مختلف خیال اور مختلف عادتیں ہیں ، کوئی مرض کے لئے پیتا ہے، کوئی شوقیہ پیتا ہے، کسی کو کچھ نافع ہے، کسی کو مضر ہے، کوئی پی کر مُنہ صاف کرتا ہے کوئی سڑا لیتا ہے، کو ئی احتیاط سے پیتا ہے، کوئی بے احتیاطی سے، کوئی بُرا سمجھ کر پیتا ہے، کوئی اچھا جان کر پیتا ہے، یہاں تک کہ بعض روزہ میں پیتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں روزہ نہیں ٹوٹتا، کوئی بہت کثرت سے پیتا ہے، کوئی کبھی کبھی پی لیتا ہے۔ بعض کو اگر ایک گھنٹہ نہ ملے بے چین ہو جاتے ہیں ، بعضوں کو کئی کئی روز تک خیال نہیں آتا۔ پھر تمباکو میں بھی بعض اقسام بہت تیز اور مضر ہیں ، بعضے کم درجہ میں ہیں ۔ کسی میں بو زیادہ ہے، کسی میں کم ہے، کسی میں نوبت نشہ یا فتور کی ہے، کسی میں نہیں ، کوئی ایسی چیز کے ساتھ مرکب ہےجس سے اس کی خباثت کم ہو جاتی ہے، کوئی نہیں ہے، اسی طرح حقّہ اور نیچہ میں بھی بعضے نیچہ کے کپڑے پاک ہیں ، کسی کے ناپاک کسی کے مشتبہ، کوئی پیچوان ہے اس میں اثر قلیل آتا ہے، کسی میں زیادہ آتا ہے، کوئی جلد جلد تازہ کیا جاتا ہے، کوئی کئی کئی دن تک سڑتا رہتا ہے، کوئی عام ہے سب کا مُنہ لگتا ہے جیسے تکیوں کے حُقّے، کوئی خاص ہے، غرض نہ سب پینے والے برابر، نہ سب تمباکو ایک طرح کے۔ نہ سب حقّہ ونیچہ ایک قسم کے سب متفاوت اور مختلف، ہر ایک کا حکم جُدا۔ پس اگر کسی نے ضرورت شدید میں کسی مرض دشوار کے علاج کے لئے احتیاط سے بطور دوا کے کبھی ایک آدھ بار پی لیا، چنداں جُرم نہیں اور جو بعد ازالہ بغیر ضرورت شوقیہ پیوے، جیسا آج کل شائع ہے کہ یہی محفل کی زیب وزینت ہوگئی اور اسی کی خاطر وتواضع رہ گئی۔ اس کے نہ ملنے کی شکایتیں ہوتی ہیں کہ فلا نے نے حُقّہ بھی نہ دیا۔ اور زبان سے چاہے برا کہتے ہوں ، اور شاید دل میں بھی جانتے ہوں ، مگر ظاہر میں بے باکانہ اس کو پیتے ہیں ۔ اور ذرا محجوب ومنقبض نہیں ہوتے، اور آخر میں مضر بھی ہوتا ہے اورمُنھ میں برابر بدبو آتی ہے، اور ہر دم منھ میں گھسا رہتا ہے، اور حواس میں بھی کدورت آجاتی ہے اور تشبہ اہل نار کے ساتھ ہے کہ منھ اور ناک میں سے دھواں نکلتا ہے، اور خود دھواں اور آگ بھی آلہ عذاب کا ہے، اس کے ساتھ متلبس رہتے ہیں ، اس طور اس کا عادی ہوجانا، بسبب اجتماع اِن امور کے بیشک برا اور سخت مکروہ ہے  پھر امور مذکورہ سابق کے تفاوت سےکراہت میں بھی تفاوت ہوگا۔ اور بعضے پینے والے جو بد احتیاط ہیں اور سڑے ہوئے حقّے ناپاک نیچے، تیز تمباکوکو پیتے پیتے نشہ ہو جاتا ہے اور شراب کی سی مد ہوشی ہو جاتی ہے، اس کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں۔

حاصل یہ کہ کوئی حقّہ زیادہ مکروہ کوئی کم مکروہ، کوئی حرام، کوئی ضرورت شدیدہ میں بطور دوا کے ایک آدھ بار رَوَا، اور اس تقریر پر ممکن ہے تطبیق درمیان اقوال علماء وفقہاء کے جو مختلف ہیں ، اس کے اباحت وکراہت وحرمت میں ، پس جیسا کسی نے موقع دیکھا ہوگا ویسا کہہ دیا ہوگا۔ بہرحال پینے ولا اس کا گناہ سے خالی نہیں اور اصرار گناہ پر سخت گناہ ہے اور اکثر اہل کشف ورویائے صادقہ کے اقوال سے معلوم ہوا کہ اس کا پینے والا محفل مبارک نبوی ا میں دخل نہیں پاتا، اور بعضوں نے اس کے پینے والوں کو معذّب بھی دیکھا ہے۔ أعاذنا اللہ منہ، کسی نے کیا خوب کہا ہے:

تمباکو نوش راسینہ سیاہ است         اگر باور نداری نے گواہ است

امداد الفتاویٰ    کے حاشیہ(4/98) میں ہے:

 یعنی اکثر حالتوں سے نہ کہ کلی حالتوں میں اور نیز یہ امر بھی قابل تحقیق ہے کہ اس سے مزاج میں جو تغیر ہوتا ہے وہ اثر تفتیر کا ہے، مثل افیون کے یا حدت کا مثل مرچ کے۔

امداد الفتاویٰ( 4/ 116 )میں ہے:

سوال(104) :  قدیم اکثر لوگ اس امر میں جمے ہوئے ہیں کہ آج کل جو زردہ پان وغیرہ میں کھایا جاتا ہے بلا کراہت جائز ہے، اس کی کوئی صورت جواز بلا کراہت معلوم نہیں ہوتی،تجربہ سے معلوم ہے کہ اگر غیر عادی شخص ذرا سا بھی زردہ کھا لیتا ہے تو آدھ گھنٹہ تک مبہوت رہتا ہے، عادی شخص کے کھانے کا کیا اعتبار، اگر ’’ کل مسکر حرام‘‘ کے قاعدہ سے حرمت ثابت ہے تو یہ کلّی مشکک ہے، درجۂ حرمت نہیں تو درجہ کراہت تحریمی تو ہے،ا ور اگر یہ بھی نہیں تو کراہت تنزیہی سے تو نہ نکلے گی، اس کے کھانے میں کوئی فائدہ نہیں ، ایک عمل ہے کہ اختیاراً پیدا ہوتا ہے، اور ہمیشہ تک مال و پیسہ کا نقصان رہتا ہے، اور جہّال زمانہ جو حقہ نوشی میں مبتلا ہیں اُ ن کے لئے ایک زبردست دلیل ہے کہ جب مولوی لوگ تمباکو کھاتے ہیں تو اگر ہم حقہ میں ڈال کر پی لیں تو کیا حرج؟ عادی شخص کی نسبت حقہ نوشی بھی مورثِ نشہ نہیں ہو سکتی جیسا کہ زردہ خوردنی، اور غیر عادی کی نسبت دونوں برابر ہیں ، مولوی لوگ یہ فرق نکال سکتے ہیں کہ حقہ نوشی میں اور بھی مضرات پائے جاتے ہیں جیسا دخان بدبودار اندرون کے لئے مضر ہے، اور یہ طریق یہود اور غیر قوموں کی روش ہے، اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں تو جہّال کہہ سکتے ہیں ، چلو صرف دخانِ بد کافرق رہا؛ اس لئے حقہ نوشی تو مکروہ تحریمی رہا، زردہ خوردنی مکروہ تنزیہی رہا؟

الجواب:  بلا ضرورت کراہت تو سمجھتا ہوں ، اور بضرورت کھانا اورپینا دونوں جائز ہیں ، اور ضرورت میں نفس اکل مکروہ نہیں ، دوسرے عوارض خارجیہ سے گو کراہت ہوجاوے  اور عوارض کی خفّت و  شدّت سے کراہت کی شدّت وخفت میں تفاوت ہوگا، اور سُکر تمباکو میں نہیں ہے صرف حدّت ہے، اسی سے پریشانی ہوتی ہے؛ لیکن عقل موؤف نہیں ہوتی، اور اُن عوارض خارجیہ ہی کے اعتبار سے کھانا اخف ہے بہ نسبت پینے کے کما ہو مشاہد ۔ 21؍ صفر 1330 ھ (تتمہ اولیٰ ص146)

کفایت المفتی (9/149) میں ہے:

سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے اور اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے۔

کفایت المفتی (129/9) میں ہے:

افیون، چرس ، بھنگ  کوکین یہ تمام چیزیں پاک ہیں اور ان کا دوا میں خارجی استعمال جائز ہے نشہ کی غرض سے ان کو استعمال کرنا ناجائز ہے۔ مگر ان سب  کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہے کہ ان کا استعمال خارجی بھی ناجائز ہے۔

فتاوی محمودیہ (18/380)میں ہے:

سوال: تمباکو کھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا: نشہ آور منع ہے،بدبودار مکروہ ہے،دونوں سے خالی ہو جائز ہے۔

فتاوی محمودیہ (18/388)میں ہے:

سوال: بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب پان میں تمباکو کھانا جائز ہے تو سگریٹ اور حقہ وغیرہ میں تمباکو پیتے ہیں اور نشہ چونکہ پان کے تمباکو میں ہوتا ہے اور سگریٹ اور حقہ وغیرہ میں بھی ہوتا ہے تو دونوں میں فرق کیا ہوا اور نسوار کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا: جس تمباکو سے نشہ ہوتا ہے اس کا کھانا (پان میں ہو یا اور طرح سے)پینا (حقہ،بیڑی، سگریٹ کسی طرح ہو) ناجائز ہے نسوار سے اگر نشہ ہوتا ہو تو وہ بھی ناجائز ہے ورنہ مضائقہ نہیں۔

رائل کالج آف سائکیٹرسٹ(برطانیہ) کی ویب سائیٹ پر ہے:

’’جب چرس پی جاتی ہے تو اس کے مرکبات تیزی سے خون میں شامل ہوجاتے ہیں اور براہ راست دماغ اور جسم کے دیگر اعضا میں پہنچ جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر ڈیلٹا نائن ٹی ایچ سی کے دماغ میں موجود کینابائیونائڈ ریسیپٹرز  (cannabinoid receptors)  سےملنے سے   نشہ آور یا خمار کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ دماغ کے خلیات میں ریسیپٹر ایک ایسی جگہ ہے جہاں مخصوص مادے کچھ عرصے کے لیے رک یا جڑ جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو اس کا اثر اس خلیے اور اس سے پیدا ہونے والے سگنل پر ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ  خود قدرتی طور پر  چرس کی طرح کے مادے پیدا کرتا ہے جنھیں اینڈوکینا بائینوائڈز  (endocannabinoids)کہا جاتا ہے۔  ایسے زیادہ تر ریسیپٹرز دماغ کے اس حصے میں پائے جاتے ہیں جو لذت، یادداشت، خیالات، توجہ، حسیات اور وقت کے ادراک کو متاثر کرتا ہے۔ چرس کے مرکبات آنکھوں، کانوں، جلد اور معدے کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

چرس کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟

خمار۔ سکون، خوشی، خواب آور کیفیت، رنگ مزید خوبصورت اور موسیقی زیادہ پر لطف لگتی ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved