- فتوی نمبر: 36-18
- تاریخ: 04 جولائی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک چیونٹی کو دیکھا اور اس سے پوچھا تمہاری خوراک کیا ہے؟ اور تم کتنا کھاتی ہو؟ چیونٹی نے جواب دیا: میں ایک سال میں گندم کے دو دانے کھاتی ہوں ۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : ٹھیک ہے ،اب تمہاری خوراک میں دوں گا، چنانچہ انہوں نے اسے گندم کے دو دانے دیے اور چلے گئے ۔ایک سال گزرنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام دوبارہ آئے انہوں نے دیکھا کہ چیونٹی نے صرف ایک دانہ کھایا ہے اور ایک دانہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا: کیا تم نے نہیں کہا تھا کہ تم ایک سال میں گندم کے دو دانے کھاتی ہو؟ چیونٹی نے جواب دیا :جی ہاں بالکل! جب میرا توکل اللہ پر تھا تب میں سال میں دو دانے کھا لیتی تھی،لیکن اس سال چونکہ آپ نے میرے رزق کی ذمہ داری لی تھی اس لیے مجھے ڈر تھا کہ کہیں آپ بھول نہ جائیں لہذا میں نے ایک دانہ اگلے سال کے لیے بچا کر رکھ لیا یہ ایک چھوٹی سی چیونٹی کا اللہ تعالی پر کامل توکل ہے۔
کیا یہ واقعہ مستند ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ واقعہ سے ملتا جلتاواقعہ ” نزہۃ المجالس “میں ہے تاہم تلاش کے باوجود ہمیں اس کی سند نہیں مل سکی بظاہر یہ واقعہ اسرائیلی روایات میں سے ہے اور جو اسرائیلی روایات دین اسلام کے مخالف نہ ہوں انہیں بیان کرنے کی گنجائش ہے لہذا مذکورہ واقعہ کو بیان کرنے کی بھی گنجائش ہےتاہم ایسے واقعات کی نہ تصدیق کرنی چاہیے اور نہ تکذیب کرنی چاہیے ۔
نزہۃ المجالس عبد الرحمن بن عبد السلام الصفوری ،ت : ۸۹۴ھ (1 / 213)میں ہے:
«حكاية قال سليمان عليه السلام لنملة كم رزقك في كل سنة قالت حبة حنطة فحبسها في قارورة وجعل عندها حبة حنطة فلما مضت السنة فتح القارورة فوجدها قد أكلت نصف الحبة فسألها عن ذلك فقالت كان اتكالي على الله قبل الحبس وبعده كان عليك فخشيت أن تنساني فادخرت النصف إلى العام الآتي فسأل ربه أن يضيف جميع الحيوانات يوما واحدا فجمع طعاما كثيرا فأرسل الله تعالى حوتا فأكله أكلة واحدة ثم قال يا نبي الله إني جائع فقال رزقك كل يوم أكثر من هذا قال بأضعاف كثيرة وفي حادي القلوب الطاهرة قال إني آكل كل يوم سبعين ألف سمكة وكان طعام سليمان عليه السلام لعسكره كل يوم خمسة آلاف ناقة وخمسة آلاف بقرة وعشرين ألف شاة
مرقاۃ المفاتیح (1/281 ) میں ہے:
(وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج) الحرج:الضيق والإثم وهذا ليس على معنى إباحة الكذب عليهم، بل دفع لتوهم الحرج في التحديث عنهم وإن لم يعلم صحته وإسناده لبعد الزمان كذا في شرح السنة، وتبعه زين العرب، وأشار إليه المظهر وهو مقيد بما إذا لم نر كذب ما قالوه علما أو ظنا. قال السيد جمال الدين: ووجه التوفيق بين النهي عن الاشتغال بما جاء عنهم، وبين الترخيص المفهوم من هذا الحديث أن المراد بالتحدث هاهنا التحدث بقصص من الآيات العجيبة، كحكاية عوج بن عنق، وقتل بني إسرائيل أنفسهم في توبتهم من عبادة العجل، وتفصيل القصص المذكورة في القرآن لأن في ذلك عبرة وموعظة لأولي الألباب، وأن المراد بالنهي هناك النهي عن نقل أحكام كتبهم لأن جميع الشرائع والأديان منسوخة بشريعة نبينا – صلى الله عليه وسلم. اهـ
مجموع الفتاوى (13/ 366) میں ہے:
ولكن هذه الأحاديث الإسرائيلية تذكر للاستشهاد لا للاعتقاد فإنها على ثلاثة أقسام: ” أحدها ” ما علمنا صحته مما بأيدينا مما يشهد له بالصدق فذاك صحيح. و ” الثاني ” ما علمنا كذبه بما عندنا مما يخالفه. و ” الثالث ” ما هو مسكوت عنه لا من هذا القبيل ولا من هذا القبيل فلا نؤمن به ولا نكذبه وتجوز حكايته لما تقدم۔
الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع للخطيب البغدادی (2/ 213) میں ہے:
وأما أخبار الصالحين وحكايات الزهاد والمتعبدين ومواعظ البلغاء وحكم الأدباء فالأسانيد زينة لها وليست شرطا في تأديتها»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved