- فتوی نمبر: 32-100
- تاریخ: 14 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماءدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چھوٹے بچوں کو سزا کے طور پر کان پکڑوانا( جو کہ خاص ہیئت کیساتھ سزا دینی ہوتی ہے ) جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جہاں ضرورت ہو اور والدین کی طرف سے اجازت بھی ہو تو بچے کو اس کی برداشت کی حد تک کان پکڑوانے کی گنجائش ہے البتہ بلا ضرورت یا والدین کی اجازت کے بغیر یا بچے کی برداشت سے زائد کان پکڑوانا جائز نہیں ہے۔
نوٹ: اگر کسی جگہ تعلیم کے دوران بچوں کو مارنا یا کان پکڑوانا قانوناً منع ہو تو کان پکڑوانے کی اجازت نہ ہوگی۔
شامی(6/127) میں ہے:
(قوله ضربا فاحشا) قيد به؛ لأنه ليس له أن يضربها في التأديب ضربا فاحشا، وهو الذي يكسر العظم أو يخرق الجلد أو يسوده كما في التتارخانية. قال في البحر: وصرحوا بأنه إذا ضربها بغير حق وجب عليه التعزير اهـ أي وإن لم يكن فاحشا
الدر المختار (9/710) میں ہے:
أما المعلم فله ضربه لأن المأمور يضربه نيابة عن الأب لمصلحته، والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه لمصلحة التعليم، وقيده الطرسوسي بأن يكون بغير آلة جارحة، وبأن لا يزيد على ثلاث ضربات ورده الناظم بأنه لا وجه له، ويحتاج إلى نقل وأقره الشارح قال الشرنبلالي: والنقل في كتاب الصلاة يضرب الصغير باليد لا بالخشبة، ولا يزيد على ثلاث ضربات.
ملفوظات حکیم الامت (14/204) میں ہے:
میں نے دو سزائیں مقرر کررکھی ہیں ایک کان پکڑوانا جس کو مراد آباد والے بطخ بنوانا کہتے ہیں ، دوسرا اٹھنا بیٹھنا اس میں دونوں اصلاحیں ہوجاتی ہیں جسمانی بھی کہ ورزش ہے ، نفسانی یعنی اخلاقی بھی کہ زجر ہوجاتا ہے۔
احسن الفتاویٰ (8/358) میں ہے:
سوال: بالغ یا نابالغ بچوں کو پڑھائی میں کوتاہی یا کسی غلطی پر سزا دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب: بوقتِ ضرورت ، بقدرِ ضرورت طلباء کو سزا دینا جائز ہے، طبائع وقوی کے اختلاف سے حکم مختلف ہوگا البتہ اصولی طور پر چند امور کی پابندی ضروری ہے:
1۔چہرے پر نہ مارا جائے۔
2۔اتنا نہ مارا جائے کہ زخمی ہوجائے۔
3۔تحمل سے زائد نہ ہو۔
فتاویٰ حقانیہ (5/170) میں ہے:
سوال: دینی مدارس میں طلباء کو کسی شرارت پر یا سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے بطور تنبیہ اور تادیب کے سزا دی جاسکتی ہے تو کیا استاد شاگرد کو شرعاً سزا دے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: استاد شاگرد کو تعزیر دینے کا حق رکھتا ہے اگرچہ وہ بالغ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ نابالغ ہونے کی صورت میں تو معلم اس کے اولیاء کی طرف سے تادیب کا مالک بنا دیا گیا ہے اور بالغ نے خود معلم کو تعزیر کا اختیار دیا ہے لیکن یہ اختیار ہے کہ سزا ایسی نہ ہو کہ اس سے طالبعلم بدنی یا ذہنی طور پر مفلوج ہوجائے۔
فتاویٰ محمودیہ (14/128) میں ہے:
سوال: تعلیم وتربیت دونوں کے لیے بسا اوقات تعذیب کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا اس پر عندا للہ مؤاخذہ ہوگا؟
جواب: بقدرِ ضرورت ایک، دو ، تین چپت تحمل کے موافق گردن اور کمر پر مارنے کی گنجائش ہے ، لکڑی یا کوڑے یا جوتے وغیرہ سے اجازت نہیں، حق سے زائد مارنے پر یہ بچے قیامت میں قصاص لیں گے۔
فتاویٰ محمودیہ (20/208) میں ہے:
سوال:۔ استاذ اپنے شاگرد کو کتنا مارسکتاہے؟کیا شریعت نے اس کی کوئی حدمقرر کی ہے،ایک مولوی صاحب فرمارہے تھے کہ استاذ اپنے شاگردکو تین چھڑی سے زائد نہیں مار سکتا، اگرماراتویہ ظلم ہوگا ،احقر کہتاہے کہ اگرطالبعلم تین چھڑی کھانے کے باوجود سبق یاد نہ کرتاہو ،شرارت سے باز نہ آتا ہو ، تواس صورت میں استاذ اگراپنے شاگرد کو نیک نیتی سے اوراس کی خیرخواہی کی خاطر اوراس کی اصلاح کی خاطر اوراس کو سبق یاد ہونے کی خاطر اور طالبعلم اپنی شرارت سے باز آنے کی خاطر اپنے شاگرد کو تین چھڑی سے زائد مارے تو کیا یہ جور وظلم ہوگا،اورعنداللہ ظالم ہوگا؟
جواب: چھوٹے بچوں کو بغیر چھڑی وغیرہ کے صرف ہاتھ سے وہ بھی انکے تحمل کے موافق تین چپت تک مارسکتاہے، وہ بھی سراورچہرہ کو چھوڑ کر یعنی گردن اور کمر پر ،اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، ورنہ بچہ قیامت میں قصاص لیں گے،بچوں پر شفقت اور نرمی کی جائے، اب پیٹنے کا دور تقریباً ختم ہوگیا، اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے، بچے بے حیا اور نڈر ہوجاتے ہیں، مارکھانے کے عادی ہوکریادنہیں کرتے، بلکہ اکثر توپڑھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved