• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

چوری کے مال کی خریدو فروخت

استفتاء

میں کباڑ کا کاروبار کرتا ہوں، اور اس میں مندرجہ ذیل مختلف اشیاء خریدتا ہوں:

پلاسٹک ، لوہا، گتہ،سمکا کڑک بوتل، عورتوں کے بال، شیشہ، پیتل، تانبہ، سلور، ڈبی، ڈکھن، ٹیکہ، گلو کوز کی بوتل، ٹین ڈبہ، کاپی، کتاب، اخبار، دیگن گتہ، ایکسرے، موبائل سرکٹ،  کمپیوٹر سرکٹ، بوتل ریگولریٹر والی، سوکھی روٹی، بورا، ہانڈی، ڈسکو جوتی، پائپ، بوپن جوتی، نالی، تھیلی، استعمال شدہ سرنجیں اور ایسی ہی بے شمار چیزیں ہیں۔

مجھے یہ کام کرتے ہوئے 13 سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور شراکت داری میں ایک سال ہوا ہے۔ پہلے میں چوری کا مال بھی خرید لیتا تھا، لیکن مسئلہ معلوم ہونے پر وہ میں نے چھوڑ دیا، لیکن بعض دفعہ ایسا مال لیتا ہوں جس میں واضح نہیں ہوتا کہ چوری کا ہے یا نہیں؟ میرا ان تمام اشیاء کا بیچنا اور خریدنا شرعاً کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ آپ کا مذکورہ کام درست ہے۔

2۔ جس چیز کے بارے میں یقین یا ظن غالب کے درجے میں چوری کا مال ہونے کا علم نہ ہو اس کو خریدنے کی اجازت ہے۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved