• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کولڈ ڈرنک سمجھ کر شراب پی لی اور نشہ میں بیوی کو طلاق دے دی

استفتاء

زید نے اپنی پوری زندگی میں کبھی شراب نہیں پی۔ لیکن ایک دن اُس نے غلطی سے کولڈڈرنک سمجھ کر شراب کے دو گھونٹ پی لیے، جس کی وجہ سے اُسے نشہ ہوا ۔ اگرچہ اُس کی عقل و ہوش باقی تھی لیکن اسکی حرکتیں کچھ پاگلوں جیسی تھی۔ اُس حالت میں جب زید گھر پہنچا تو اپنی بیوی سے جھگڑتے ہوئے کہا: “میں تجھ کو چھوڑ دوں گا، ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق۔” کیا ایسی حالت میں اُس کی طلاق واقع ہو جائے گی؟

تنقیح :سائل شوہر کا پڑوسی ہے ۔ شوہر بنگلہ زبان  جانتا ہے اردو نہیں جانتا ۔ اس لیے سائل شوہر  کا موقف بتا رہا ہے ۔ مقامی علماء  کی آراء اس مسئلہ میں مختلف ہیں اس لیے یہاں رابطہ کیا ہے ۔شوہر کا بیان یہ ہے کہ مجھے یہ تو ہوش تھا کہ  میں کیا کہہ رہا ہوں  لیکن  میں اپنے کنٹرول میں نہیں تھا ۔  ہوا یہ تھا کہ شوہر غلطی سے شراب پی بیٹھا جس پر بیوی نے شوہر کے بھائیوں کو بلا یا تو شوہر کی اپنے بھائیوں کی موجودگی میں بیوی  سے  لڑائی ہوئی  ۔اور شوہر نے مذکورہ الفاظ بولے ۔ شوہر ان کے سامنے اپنا ستر بھی کھولنے لگا تھا۔ اور زبان  سے گالیاں بھی دے رہا تھا حالانکہ عام حالات میں   تو شریف آدمی ہے نہ گالیاں نکالتا ہے اور  نہ ستر کھول سکتا ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعی  زید نے لاعلمی میں شراب پی ہے اور پیتے وقت اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ شراب پی رہا ہے اور  شراب پینے کے بعد اس کے اثر کی وجہ سے  اس نے پاگلوں جیسے مذکورہ کام بھی کیے ہیں  تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

توجیہ :شراب پینے کے بعد  زید  کے افعال و اقوال میں خلل آجانا اور  پاگلوں جیسی حرکتیں کرنا مثلاً اپنا ستر کھولنے کی کوشش  اور زبان سے گالیاں دینا، یہ اس بات کی علامت ہے  کہ وہ  سکران کی حد کو پہنچ چکا ہے اور سکران کی طلاق کے وقوع کا  حکم   زجراً ہے  جس کی وجہ ارتکابِ معصیت ہے ۔ جبکہ  لاعلمی میں شراب پینے میں معصیت نہیں ہے  اس لیے یہ سکران بالمباح  کے حکم میں ہوگا اور سکران بالمباح کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  (3/ 198) میں ہے:

« إذا زنى أو سرق أو شرب في حالة السكر حيث يجب عليه الحد لأن الإنشاء لا يحتمل الكذب فيعتبر فعله فيما ينفذ من غير قصد واعتقاد بخلاف ارتداده حيث لا يعتبر ولا تبين منه امرأته به لعدم القصد والاعتقاد وهو شرط فيه …….وهذا إذا سكر بالمحرم وأما إذا سكر بالمباح كشرب المضطر والمكره والمتخذ من الحبوب والعسل والدواء فلا تعتبر تصرفاته كلها ولأنه بمنزلة الإغماء لعدم الجناية»

فتاوی شامی (3/ 239) میں ہے :

«السكر: سرور يزيل العقل فلا يعرف به السماء من الأرض. وقال: بل يغلب على العقل فيهذي في كلامه، ورجحوا قولهما في الطهارة والأيمان والحدود. وفي شرح بكر: السكر الذي تصح به التصرفات أن يصير بحال يستحسن ‌ما ‌يستقبحه ‌الناس وبالعكس. لكنه يعرف الرجل من المرأة قال في البحر: والمعتمد في المذهب الأول نهر. قلت: لكن صرح المحقق ابن الهمام في التحرير أن تعريف السكر بما مر عن الإمام إنما هو السكر الموجب للحد، لأنه لو ميز بين الأرض والسماء كان في سكره نقصان وهو شبهة العدم فيندرئ به الحد وأما تعريفه عنده في غير وجوب الحد من الأحكام فالمعتبر فيه عنده اختلاط الكلام والهذيان كقولهما. ونقل شارحه ابن أمير حاج عنه أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود وغير ذلك لأن السكران في العرف من اختلط جده بهزله فلا يستقر على شيء، ومال أكثر المشايخ إلى قولهما، وهو قول الأئمة الثلاثة واختاروه للفتوى لأنه المتعارف، وتأيد بقول علي رضي الله عنه إذا سكر هذى رواه مالك والشافعي …… وبه ظهر أن المختار قولهما في جميع الأبواب فافهم.

امداد الفتاوی  (2/410) میں ہے :

کیا ارشاد فرماتے ہیں حضرات علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے بحالت لاعلمی ایک طرح کی مٹھائی سمجھ کر بھنگ ملی ہوئی مٹھائی کھاکر نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دیدی اور جب زیادہ حالت خراب ہو کر قے ہو کر اور کسی کے کھلانے سے ترشی کو کھا کر نشہ اُترا اور معلوم ہوا کہ یہ بھنگ ملی ہوئی مٹھائی کا نشہ تھا جو کہ ناواقفی میں کھائی تھی تو سخت توبہ کی اور چونکہ اُس طلاق مذکور کا دینا بالکل یاد نہ تھا؛ لہٰذا کسی شخص کی زبانی معلوم ہوکر سخت افسوس ہوا اوراحتیاطاً بیوی سے علیحدہ ہوگیا پس بصورت مذکورہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟ 

الجواب:  في الدرالمختار: نعم ! لو زال عقله بالصداع أو بمباح لم یقع. وفي رد المحتار: کما إذا سکر من ورق الرمّان فإنه لایقع طلاقه ولا عتاقه ونقل الإجماع على ذلک صاحب التهذىب کذا في الهندية،  قلت: وکذا لو سکر ببنج أو أفیون تناوله لا على وجه  المعصية بل للتداوي کما مر

اس روایت سے معلوم ہوا کہ صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved