• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

کمپنی کا مہنگے موبائل سستی قیمت میں دینا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی اس طرح معاملہ کرتی ہے کہ وہ مثال کے طور پر ایک موبائل جس کی بازار میں قیمت ایک لاکھ روپے ہے، تو یہ کمپنی اس طرح کرتی ہے کہ کوئی شخص جو وہ موبائل خریدنا چاہتا ہے، تو اس کمپنی کو اپنے مطلوبہ موبائل کی بکنگ کرواتا ہے، چند روز کے بعد کمپنی اس موبائل کو منگوا لیتی ہے، اور اس کی بازاری قیمت کے مطابق وہ شخص وہ رقم اس کمپنی کو ادا کر کے وہ موبائل خرید لیتا ہے۔ پھر وہ شخص اس موبائل کو چند روز استعمال کرنے کے بعد دوبارہ اسی کمپنی کے پاس لے جاتا ہے اور وہ کمپنی اس موبائل کی رقم میں سے صرف دس فیصد رقم کاٹ کر باقی رقم کا چیک بنا دیتی ہے، اور اس شخص کو دے دیتی ہے، جس نے اس سے موبائل خریدا تھا، اس طرح وہ شخص  وہ موبائل جو بازار میں مثلاً ایک لاکھ روپے کا ہے وہ موبائل اسے صرف دس ہزار روپے میں مل جاتا ہے، اور وہ کمپنی اس چیک کو کیش کروانے کے چند روز بعد کی کوئی مخصوص تاریخ دیتی ہے کہ فلاں تاریخ کو یہ چیک متعلقہ بینک سے کیش کروا لینا۔ اور وہ خریدار شخص اس بینک میں متعینہ تاریخ کو جا کر چیک کیش کروا لیتا ہے، یہ معاملہ بعض لوگوں نے اس کمپنی سے کیا ہے، اور ان کو ان کا مطلوبہ موبائل بازاری قیمت سے صرف دس فیصد میں مل جاتا ہے۔ کیا اس طرح اس کمپنی سے معاملہ کرنا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کیوں؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس کی وجہ بیان فرما دیں۔ وہ کمپنی والے اس سارے معاملے کی کوئی دیگر تفصیل نہیں بتاتے، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس معاملے پر بہت کام کیا ہے، ہمیں کچھ فائدہ ہوتا ہے تو ہم یہ کر رہے  ہیں، کیا ان لوگوں سے معاملہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کمپنی کو ایک لاکھ کا موبائل 10 ہزار میں دینے میں کیا فائدہ ہے؟ جب تک کمپنی اس فائدے کو واضح طور پر بیان نہیں کرتی اس وقت تک لوگ ایسی کمپنی سے معاملہ کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ عموماً ایسی کمپنیاں لوگوں کو شروع شروع میں ایک بڑے نفع کا جھانسہ دے کر آخر کار ان کے پیسے کو ہڑپ کر جاتی ہیں۔ ماضی میں کئی دفعہ عوام کے پیسوں کے ساتھ یہ کھیل کھیلا جا چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved