- فتوی نمبر: 31-348
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > کمپنی و بینک > انشورنس
استفتاء
آج سے پندرہ سال پہلے بچوں کی تعلیم کے لیے انشورنس پالیسی لی تھی وہ اب میچور ہو گئی ہے تو اس میں جو سود کی رقم ہے اسکو علیحدہ کرنا ہے کیا یہ پیسے ہم کسی مسلم ادارے کو یا کسی مسلمان جو ضرورت مند ہو اسکو دے سکتے ہیں یا نہیں۔قرآن وسنت کی روشنی میں اس کا حل بتائیں۔ہم نارتھ امریکہ میں رہنے والے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دے سکتے ہیں۔
فتاوى شامی (7/442) میں ہے:
(ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار (ثمة) لان ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا۔
قوله:(ثمة) أي:في دار الحرب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved