- فتوی نمبر: 8-372
- تاریخ: 17 اپریل 2016
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ درزی کے پاس جو کپڑا بچ جاتا ہے اس کپڑے کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بچنے والا کپڑا اگر اتنی قلیل مقدار میں ہے کہ علم ہونے کے باوجود عموماً لوگ اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرتے تو ایسے بچے ہوئے کپڑے کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ اور اگر اس مقدار سے زائد ہے تو واپس کرنا ضروری ہے۔ البتہ واپس کرنے کے باوجود بھی کپڑے والا یہ کپڑا آپ کے پاس چھوڑ جائے تو پھر استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
فتاویٰ رحیمیہ (10/ 238) میں ہے:
’’الجواب: اگر بچا ہوا کپڑا اتنی مقدار میں ہے کہ اس کو واپس کرنے کا عرف ہے تو اس بچے ہوئے کپڑے کا مالک وہی ہے جس کا کپڑا ہے، اس کو ہی واپس کرنا چاہیے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved