- فتوی نمبر: 34-337
- تاریخ: 06 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔ ختنے کے موقع پر لوگوں کی دعوت کرنا اور کھانا کھلانا اور اس دعوت کو قبول کرنا کیسا ہے؟
2۔ اگر جائز ہے تو حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث کی کیا توجیہ ہے جس میں انہوں نے دعوت ختان پر آنے سے منع کر دیا تھا اور ساتھ فرمایا تھا کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگ ختنہ کی دعوت پر نہیں جاتے تھے اور نہ ہی اس کے لیے دعوت دی جاتی تھی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ اگر خلاف شرع امور مثلاً ناچ گانا نہ ہو اور اسے لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے تو جائز بلکہ مستحب ہے۔
2۔ اہل علم نے اس کی متعدد توجیہات کی ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(١)یہ لڑکی کے ختنے کی دعوت تھی جبکہ لڑکی کے ختنے کا اخفاء مستحب ہے اور لڑکے کے ختنے کا اظہار مستحب ہے۔
(٢)بعض اوقات لڑکے کا ختنہ بلوغت کے بعد کیا جاتا تھا اس لیے منع کا تعلق نفس ختنہ میں حاضر ہونے سے ہے ختنہ کی دعوت سے نہیں۔
(٣)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ختنے کی دعوت کا ایسا اہتمام نہ تھا جیسا کہ ولیمے کی دعوت کا تھا جبکہ لوگ اس کا ولیمہ کی دعوت کی طرح اہتمام کرنے لگے ہوں گے یا کم از کم اس کا اندیشہ ہوگا لہٰذا منع کا تعلق اہتمام سے ہے نفس دعوت سے نہیں۔
حاشیہ بذل المجہود(13/655) میں ہے:
وهل يدعى للختان، روى أحمد في “مسنده” (4/ 217) عن عثمان بن أبي العاص، وقد دعى إليه قال: ما كنا ندعى لهذا، وعزاه السيوطي في “الدر المنثور” (1/ 280) إلى الطبراني (8381) أيضا، لكن يظهر من كلام الحافظ (10/ 343) أنه كان لختان جارية، وذكر استحباب الدعوة له، وعن “المدخل” (3/ 230): أن المستحب إظهار ختان الذكر وإخفاء ختان الأنثى، …… أخرج البخاري في “الأدب المفرد” (1246) عن سالم أن ابن عمر ذبح كبشا في ختانه، ولا يبعد أن تكون علة النفي أنهم يختنون الرجل حين يدرك، كما صرح به في “الإصابة” (2/ 322) في ترجمة ابن عباس، فالمنع عن حضوره، والإثبات للدعوة، لكن حكى الحافظ (9/ 247) عن عثمان: ترك الدعوة، وحكى الموفق (10/ 207) عن الأئمة الأربعة ترك التأكد، وجمع بينهما بعموم الندب وغيرها
مصنف ابن ابی شیبہ(9/482) میں ہے:
حدثنا جرير عن ليث عن نافع قال: كان ابن عمر يطعم على ختان الصبيان
المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ لابن حجرؒ،ت: ۸۵۲ھ (8/308) میں ہے:
وحدثنا جبارة بن المغلس ثنا علي بن غراب ثنا أشعث عن الحسن عن عثمان ابن أبي العاص رضي الله عنه أنه دعي إلى طعام فلما جاء قال ما هذا قالوا ختان جارية فقام ولم يأكل وقال هذا شيء ما دعينا له في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
اعلاء السنن(11/16) میں ہے:
ودعوة الختان لا يعرفها المتقدمون، ولا على من دعى إليها أن يجيب، وإنما وردت السنة في إجابة من دعى إلى وليمة تزويج يعنى بالمتقدمين أصحاب رسول الله الله الذين يقتدى بهم، وذلك لما روى أن عثمان بن أبي العاص دعى إلى ختان فأبى أن يجيب، فقيل له، فقال: إنا كنا لا نأتي الختان على عهد رسول الله له ولا ندعى إليه، رواه الإمام أحمد بإسناده، فحكم الدعوة للختان وسائر الدعوات غير الوليمة أنها مستحبة، لما فيها من إطعام الطعام والإجابة إليها مستحبة غير واجبة، وهذا قول مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله وأبي حنيفة رحمه الله وأصحابه.
وقال العنبري تجب إجابة كل دعوة، فقد روى أبو داود عن ابن عمر رضي الله عنه مرفوعا: إذا دعا أحدكم أخاه فليجبه عرسا كان أو غير عرس ولنا أن الصحيح من السنة إنما ورد في إجابة الوليمة وهي الطعام في العرس خاصة، وهو قول أهل اللغة، وقد صرح بذلك في بعض روايات ابن عمر رضى الله عنه عن رسول الله له أنه قال: إذا دعى أحدكم إلى وليمة عرس فلیجب رواه ابن ماجة (فما في رواية أبي داود من زيادة غير عرس ليس بمحفوظ) والأمر بالإجابة إلى غيره محمول على الاستحباب، وقد دعى أحمد إلى ختان فأجاب وأكل، فأما الدعوة في حق فاعلها فليست لها فضيلة تختص بها، لعدم ورود الشرع بها، ولكن هي بمنزلة الدعوة بغير سبب حادث، فإذا قصد فاعلها شكر نعمة الله عليه وإطعام إخوانه وبذل طعامه فله أجر ذلك، إن شاء الله تعالى ” اهـ ملخصا (۱۰٤:٨ و ۱۱۷). قلت: وكل ذلك موافق لمذهبنا معشر الحنفية، وما كان خلافا نبهت عليه كما ترى، والله تعالى أعلم.
اوجز المسالک(9/573) میں ہے:
وحكم الدعوة للختان وسائر الوليمة أنها مستحبة لما فيه من الطعام، والإجابة إليها مستحبة غير واجبة، وهذا قول مالك والشافعي وأبي حنيفة وأصحابه.
وقال العنبري: تجب إجابة كل دعوة لعموم الأمر به، فإن ابن عمر -رضي الله عنه ، روى عن النبي ﷺ أنه قال : إذا دعا أحدكم أخاه فليجب عرساً كان أو غير عرس أخرجه أبو داود، ولنا : أن الصحيح من السنة إنما ورد في إجابة الداعي إلى الوليمة وهي الطعام في العرس خاصة، كذلك قال خليل وغيره من أصحاب اللغة، وقد صرح بذلك في بعض روايات ابن عمر مرفوعاً : إذا دعي أحدكم إلى وليمة عرس فليجب، رواه ابن ماجه.
وروي أن عثمان بن أبي العاص دعي إلى ختان فأبى أن يجيب، فقيل له ؟ فقال : إنا كنا لا نأتي الختان على عهد رسول الله ﷺ ولا تدعى إليه، رواه الإمام أحمد بإسناده، ولأن التزويج يستحب إعلانه وكثرة الجمع فيه بخلاف غيره، والأمر بالإجابة إلى غيره محمول على الاستحباب، اهـ.
ہندیہ(5/343) میں ہے:
لا ينبغي التخلف عن إجابة الدعوة العامة كدعوة العرس والختان ونحوهما، وإذا أجاب، فقد فعل ما عليه أكل أو لم يأكل، وإن لم يأكل فلا بأس به والأفضل أن يأكل لو كان غير صائم، كذا في الخلاصة
کفایت المفتی(2/348) میں ہے:
سوال: ختنہ میں دعوت کرنی درست ہے یا نہیں؟ حدیث طبرانی الخرس والاعذار والتوکیر انت فيه بالخیار سے گنجائش معلوم ہوتی ہے اور حدیث مسند احمد ولیمة الختان لم یکن یدعی لها سے ممانعت و بدعت ثابت ہوتی ہے پس اس بارے میں کیا توجیہ ہوگی؟
جواب: ولیمة الختان لم یکن یدعی لها کا مفہوم اسی قدر ہے کہ یہ معمول نہ تھا۔ ولیمہ کا لفظ اس کو شامل ہے اس لئے فی حد ذاتہ اباحت ہے ۔ ہاں آج کل کے مصالح اسلامیہ اس کے مقتضی ہیں کہ ایسی دعوتیں جس قدر کم ہوں بہتر ہے۔
اصلاح الرسوم(ص:33) میں ہے:
من جملہ ان کے وہ رسوم ہیں جو ختنہ میں عوام نے اضافہ کر رکھے ہیں:
۱۔ لوگوں کو آدمی اور خطوط بھیج کر بلانا اور جمع کرنا، جو بالکل خلافِ سنت ہے۔ مسندِ احمد میں حسن ؓسے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ کو کسی نے ختنہ میں بلایا، آپ نے تشریف لے جانے سے انکار فرمایا۔ آپ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی۔ آپ نے جواب دیا کہ ہم لوگ عہدِ رسول اللہ ﷺ میں کبھی ختنہ میں نہ جاتے تھے اور نہ اس کے لیے بلائے جاتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت میں جس امر کا اعلان ضروری نہیں اس کے لیے لوگوں کو جمع کرنا، بلانا خلافِ سنت ہے۔ اس میں بہت سی رسمیں آگئیں جن کے لیے لمبے چوڑے اہتمام ہوتے ہیں۔……..بعض شہروں میں یہ آفت ہے کہ اس تقریب میں یا مخصوص غسلِ صحت کے روز خوب راگ باجہ ہوتا ہے، اور کہیں ناچ ہوتا ہے، کہیں ڈومنیاں گاتی ہیں، جن کا مذموم ہونا اوّل میں لکھا گیا ہے، اور جس کے مفاسد ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب مذکور ہوں گے۔ غرض ان خرافات و معاصی کو موقوف کرنا چاہیے۔ جب بچہ میں قوت برداشت کی دیکھی جائے، چپکے سے نائی کو بلاکر ختنہ کرادیں۔ جب اچھا ہوجائے غسل کرادیں۔ اگر گنجایش ہو اور بار بھی نہ ہو اور پابندی بھی نہ کرے اور شہرت و نمود اور طعن وبدنامی کا بھی خیال نہ ہو، شکریہ میں دو چار اعزہ واحباب یا دو چار مساکین کو ماحضر کھلادے۔ اللہ اللہ خیر صلاح۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved