- فتوی نمبر: 8-102
- تاریخ: 09 دسمبر 2015
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
اگر کوئی شخص مسجد میں کھڑے ہو کر کسی مسلمان پر جھوٹا الزام لگا دے، اور اپنی بات کو (نعوذ باللہ) اللہ سے منسوب کر دے کہ تم (ایسے ہو یا تم ویسے ہو یعنی تم نے مجھ کو زہر دیا ہے)۔ شہادت کی بھی ضرورت محسوس نہ کرے۔ لہذا اس سے وضاحت کس طرح طلب کی جائے گی؟
1۔ اگر ایک شخص دو لوگوں کے درمیان بدگمانی پیدا کر کے لڑائی کرا دے، مثلاً فلاں نے تم پر جادو کیا ہے وغیرہ؟
2۔ اس قسم کے شخص کو امیر منتخب کیا جا سکتا ہے یا اس کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1-کسی مسلمان پر جھوٹا الزام لگانا اور وہ بھی مسجد میں شریعت کی رُو سے نا جائز اور حرام ہے، اور اتنی بات تو ہر مسلمان کو معلوم ہی ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ مذکورہ شخص نے جو الزام لگایا ہے وہ سچا ہے یا جھوٹا؟ تو دار الافتاء کے لیے اس کا طے کرنا فریقین کی بات سنے بغیر ممکن نہیں۔
2- اس کا جواب بھی وہی ہے، جو نمبر 1 کا ہے۔
3۔ ایسے شخص کے تفصیل حالات معلوم کیے بغیر اس کا جواب دینا ممکن نہیں ۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved