• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو بیویوں، ایک بیٹے، ایک بیٹی، تین بھائیوں اور چھ بہنوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

ایک آدمی کا انتقال ہوا جس کی دو بیویاں، ایک بیٹا ، ایک بیٹی، تین بھائی ہیں   جن میں سے  دو  بھائی پاگل اور ایک صحیح ہے اور چھ بہنیں ہیں۔ والدین میت کے انتقال سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ اب اس فوت شدہ آدمی کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

نوٹ: یہ دونوں بھائی جو پاگل ہیں بھیڑ بکریاں چراتے ہیں اور بات کو سمجھتے ہیں، بازار سے اگر سامان منگوایا جائے تو لاسکتے ہیں لیکن شادی کے قابل نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکہ کے 48 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 3 حصے (6.25فیصد فی کس) مرحوم کی ہر بیوی کو، 28 حصے (58.33فیصد ) مرحوم کے بیٹے کو اور 14 حصے (29.16) مرحوم کی بیٹی کو ملیں گے۔ جبکہ مرحوم کے بھائی بہنوں کو وراثت میں سے  کچھ نہیں ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

8×6=48

دو بیویاںبیٹابیٹی3  بھائی6بہنیں
8/1عصبہمحروم
1×67×6
642
3+32814

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved