- فتوی نمبر: 34-285
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک مرد کی دو بیویاں ہیں، پہلی بیوی کا انتقال ہو گیا اور مال پہلی بیوی کا ہے ، پہلی بیوی کی دو بیٹیاں ہیں اور دوسری بیوی کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے، اور شوہر کا انتقال کچھ عرصے بعد ہوا اور مرحومہ بیوی کا ایک دیور بھی ہے ابھی اس عورت کے مال کے وراثت کا کیا حکم ہے؟ مرحومہ کا کوئی حقیقی بھائی نہیں ہے صرف ایک چچا زاد بھائی ہے۔
تنقیح: بیوی اور شوہر کے انتقال کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی زندہ نہ تھا نیز عورت کا کوئی چچا بھی زندہ نہ تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحومہ (پہلی بیوی) کے ترکہ کے 480 حصے کرکے مرحومہ کی سگی بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 181 حصے (37.708 فیصد فی کس) ، سوتیلے بیٹے کو 42 حصے (8.75 فیصد)، سوتیلی بیٹی کو 21 حصے (4.375فیصد)، شوہر کی دوسری بیوی کو 15 حصے (3.125 فیصد) اور مرحومہ کے چچا زاد بھائی کو 40 حصے (8.33 فیصد) ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved