- فتوی نمبر: 31-326
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بیوی سے جھگڑا ہوا، جھگڑے کے دوران میں نے بیوی کو دو مرتبہ کہا کہ “میں زید ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” تیسری مرتبہ کہنے کا ارادہ تھا لیکن والدہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور بولنے نہیں دیا، اس کے بعد میں نے ساس کو وائس میسج کیا کہ “میں اینوں تین دفعہ طلاق دے دتی اے اینوں آ کے لے جاؤ” (میں نے اسے تین بار طلاق دے دی ہے اسے آ کر لے جائیں) مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ؟
نوٹ: سائل کے ساتھ شوہر کی والدہ اور بیوی بھی دارالافتاء آئی تھیں، ان دونوں نے سائل کے بیان کی تصدیق کی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب بیوی کے لیے شوہر کیساتھ رہنا جائز نہیں۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے بیوی کو دو مرتبہ یہ کہنے سے کہ “میں زید ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” تو دو طلاقیں ہی واقع ہوئی تھیں لیکن وائس میسج میں یہ کہنے سے کہ “میں اینوں تین دفعہ طلاق دے دتی اے اینوں آ کے لے جاؤ” (میں نے اسے تین بار طلاق دے دی ہے اسے آ کر لے جائیں) بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہو گئیں کیونکہ یہ طلاق کا جھوٹا اقرار ہے اور جھوٹے اقرار سے قضاء طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور بیوی “المرأۃ کالقاضی” کے اصول کے پیش نظر قضا والے حکم پر عمل کرنے کی پابند ہے۔
بحر الرائق(3/264) میں ہے:
و أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.
در مختار(4/428) میں ہے:
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر(2/184) میں ہے:
الاقرار بالطلاق کاذبا یقع به قضاءً لا دیانةً.
فتاوی شامی (449/4) میں ہے:
المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved