• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو طلاق کے بعد کہامیری طرف سےفارغ سمجھو

استفتاء

میں مسمی*** ولد حاجی *** خداکوگواہ کرکے لکھ رہاہوں۔

مورخہ2009۔4۔30 صبح ہم میاں بیوی گھر میں معمولی تکرار کے بعد اپنے اپنے کام میں مصرف ہوگئے ، رات کو گھر میں دیر تک بیوی کا انتظار کیا جو میرے ذاتی گھر کے سامنے واقع میرے والدین کے گھر سوگئی تھی میں اسے لانے اپنے والد کے گھر گیا اور سوتے میں آہستہ آہستہ بیوی کو گھر لانے کے لیے اکسانے لگا جو خاموش تھی مجھے غصہ آیا کہ اس طرح نہیں مانتی تو دھمکاتاہوں اس نیت سے اسے کہا میں تمہیں طلاق دیتاہوں،خاموشی کے بعد دوسری باروقفے سے اپنے وہی الفاظ دھرادئے پھر اچانک والد صاحب جاگ گئے بھائی بھی جاگ گئے اور انہوں نے مجھے بے تحاشا پیٹنا شروع کردیا۔ والدصاحب نے لعن طعن کرتے ہوئے گھر سے باہر دھکا دیتے ہوئے کہا میرے گھر سے دفع ہوجاؤ اب میں نے والد صاحب کو دھمکانے کے اور بیوی کو نہ سنانے کی نیت سے کہا اسے میری طرف سے فارغ سمجھو”۔

خداگواہ ہے  میں کسی چھٹکارے یا علیحدگی کی نیت سے کوئی الفاظ نہیں کہنا چاہتاتھا۔

بیوی کا بیان

میں ***خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ مورخہ 2009۔ 4۔ 30 بروز اتوار کو میرا اپنے شوہر سے جھگڑا ہوا جس پر ہم دونوں میں چند لمحے بحث ہوئی  اور انہوں نے مجھے مارا۔ رودھوکے شام کو میں اپنے سسرال کے گھر آگئی جو ہمارے گھر کے سامنے ہی ہے۔ ادھر آکر یہی سوچا کہ آج انہیں سزادینے کے لیے میں اپنے سسرال کے گھر ہی سوجاؤں گی یا کچھ دیر بعد جاؤں گی۔  میں نے اپنے ساس، سسر کے پوچھنے پر انہیں یہی کہا کہ امی ابو آج میں یہیں سونا چاہتی ہوں۔

رات کو جب یہ مجھے لینے آئے تو انہوں نے بڑے پیار سے مجھے کہا کہ آؤ صائمہ گھر چلیں۔ خداگواہ ہے کہ میں ان کے پیار سے بولنے کیوجہ سے شرارت کے موڈ میں آگئی اور میں نے کہہ دیا میں نے نہیں جانا میں نے امی، ابو سے اجازت لے لی ہے۔ آج میں یہیں سوؤں گی۔انہوں نے 6۔5 بار مجھ سے کہا لیکن میرے انکار پر شاید وہ غصے میں آگئے اور انہوں نے مجھے کہہ دیا :

“میں تمہیں طلاق دیتاہوں، میں تمہیں طلاق دیتاہوں”۔

میراخداگواہ ہے کہ یہ الفاظ میں نے سنے ضرور لیکن میں سمجھ ہی نہیں پائی کہ وہ یہ الفاظ مجھ سے کہہ رہے ہیں میں جیسے بے حواس ہوگئی ۔ہمارے درمیان اکثر جھگڑا ہوتاہے لیکن میں بھی تصور بھی نہیں کرسکتی کہ میرے  شوہر مجھے یہ الفاظ کہیں گے۔

ان کے دوبارہ بولنے پر فورا ہی میرے سسر تیزی سے آئے اور انہیں بے تحاشا مارنا پیٹنا شروع کردیا میں اتنا بھی سنا کہ انہوں نے ابو سے کہا کہ یہ ” میرے طرف سےفارغ ہے” میں سب سن تو رہی تھی لیکن خدا کوحاضروناضر جان کر کہوں گی میں بے حواس ہوگئی ۔ ان کے جانے کے بعد میرے  دیور نے مجھے آکر کہا بھابھی باہر آئیں میں نے ان کی بھی آواز سنی میں نے اٹھنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو جنبش دینے کی کوشش کی لیکن باللہ میرے ہاتھ بے جان سے ہوگئے مجھ میں ہلنے کی سکت نہیں رہی تھی۔ مجھے یقین ہی نہیں ہوپارہا تھا کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ اتنی معمولی سی بات پر ہورہا ہے مجھے اتنا یا دہے کہ میری بڑی یا چھوٹی نند مجھے اٹھا کر باہر لائی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں شوہر کے ان الفاظ سے ” کہ میں تمہیں طلاق دیتاہوں اور خاموشی کے بعد دوسری دفعہ وقفے سے سے آپ نے وہی  الفاظ دہرائے” دو طلاقیں رجعی واقع ہوئی۔ اور شوہر کے ان الفاظ سے کہ” اسے میرے طرف سے فارغ سمجھو” سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ البتہ بیوی کے اس بیان  سے کہ میں نے اتنا بھی سنا کہ انہوں نے ابو سے کہا” یہ میری طرف سے فارغ ہے” پہلی دوطلاقیں بیوی کے حق میں دوبائن طلاقیں سمجھی جائیں گی۔

اس لیے آپس میں اکٹھا رہنے کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔ نیز آئندہ شوہر کوصرف ایک طلاق کا حق باقی ہے۔

وفي الملتقط لو قالت: مراطلاق ده فقال… ولو قال داده آنكار أو كرده آنكار، وفي الإبانة أودست بازداشته آنكار، لايقع الطلاق وإن نوى وفي الخانية كما لو قال”احسبي أنك طالق” قال ذلك لا يقع الطلاق وإن نوى.(تاترخانیه،  ص:237،ج:3)

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه . ( شامی 4/ 449 )۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved