• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق عدت کے بعد دینا

استفتاء

میں نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق 29 نومبر 2024 کو بذریعہ واٹس ایپ بھیجی اور پھر 10 دن کے بعد رجوع ہو گیا تو ایک مہینہ ساتھ رہے اور پھر علیحدگی ہو گئی اس کے بعد دوسری طلاق 7 اپریل  2025کو بذریعہ واٹس ایپ بھیجی اور پھر رجوع نہیں ہوا اور اس کی عدت ختم ہو گئی اور 8 مہینے گزر گئے اب  ایک طلاق 15 نومبر  2025 کو  بذریعہ واٹس ایپ بھیجی ہے یہ جو تیسری طلاق دوسری طلاق کے 8 مہینے بعد دی ہے یہ ہوگئی یا نہیں؟  کیا دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

وضاحت مطلوب ہے:  1۔تینوں طلاقوں کی تفصیل بتائیں تحریری دی یا زبانی؟  اگر تحریری دی تو تینوں کی تحریر کی تصویر ارسال کریں اور  اگر زبانی دی تو واٹس ایپ میسج ارسال کریں۔2۔ بیوی کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت:  زبانی ایک بھی طلاق نہیں دی سب واٹس ایپ سینڈ کی ہے سٹام پیپر پہلے سے لیا تھا جس وقت طلاق بھیجی اسی وقت لکھا تھا اور سائن کیے تھے پھر دس دن بعد  بیوی گھر آگئی اور رجوع کر لیا اور دوسری طلاق عام کاغذ پر  لکھ کر بھیجی  دوسری  طلاق کے   بعد رجوع نہیں کیا پھر 8 ماہ بعد تیسری طلاق دی۔2۔****

اسٹام  پیپر کی عبارت:

میں بذات خود زید   …….. بیان  دیتا ہوں کہ میری شادی  فاطمہ ….. کے ساتھ قرار پائی تھی جوکہ  گھریلو رنجش کے باعث نہ چل سکے لہذا میں اپنے پورے ہوش وحواس میں  فاطمہ   كو   طلاق بھیجتا ہوں۔

عنوان برائے طلاق نوٹس  طلاق (حصہ اول) کی عبارت:

گزارش ہے کہ میں بذات خود  زید …….میری شادی مؤرخہ 20-05-13 کو  فاطمہ   ………… سے طے پائی تھی جو کہ گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے نہ چل سکی لہذا میں اپنے پورے ہوش و حواس میں 25-04-27 کو  طلاق دیتا ہوں۔

 العارض : زید

تیسرے طلاقنامے کی عبارت:

میں بذات خود  زید  اپنے پورے ہوش اور حواس میں بیان دیتا ہوں کہ میری شادی مؤرخہ 20-05-13  كو  فاطمہ ………….سے ہوئی تھی جو کہ گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے نہ چل سکی لہذا میں  زید  اپنے پورے ہوش و حواس میں  فاطمہ کو طلاق دیتا ہوں،  طلاق دیتا ہوں،  طلاق دیتا ہوں۔

 العارض : زید

وضاحت مطلوب ہے:  بیوی کو دوسری طلاق کے بعد تیسری طلاق تک کتنی ماہواریاں آئیں؟  کیا باقاعدہ ماہواری آتی رہی  یا نہیں؟

جواب وضاحت: ماہواری ہر ماہ  مستقل آرہی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی لہذا  اب آپ دونوں دوبارہ باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں اور شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار رہے گا۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں پہلی طلاق تحریر سے ہوئی پھر  عدت میں رجوع کیا اور پھر دوسری طلاق شوہر کی  دوسری تحریر سے ہوئی اس کے بعد رجوع نہیں کیا اور عدت گزر گئی لہذا عدت کے گزر جانے کے بعد نکاح ختم ہو چکا تھا اس کے بعد جو تحریری طلاق دی ہے وہ محل نہ ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوئی لہذا تیسری طلاق واقع نہ ہونے کی وجہ سے اگر میاں بیوی نکاح کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں اس کے بعدشوہر کے لئے صرف ایک طلاق کا حق باقی رہے گا۔

شامی (3/263) میں ہے:

(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: ‌الكتابة ‌على ‌نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ………… وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة

بدائع الصنائع (3/187) میں ہے:

فالحكم ‌الأصلي ‌لما ‌دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد

بدائع الصنائع (3/126) میں ہے:

(فصل) ‌وأما ‌الذي ‌يرجع ‌إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved