- فتوی نمبر: 35-33
- تاریخ: 26 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم ضلع پشین کلی نالی سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے علاقے کا ایک قانون ہے کہ جو لوگ ایک مرتبہ قبرستان میں تعزیتی جلسہ میں شریک بھی ہوں لیکن میت کے ورثاء پھر بھی دوبارہ گھر پر تعزیت کے خواہشمند ہوتے ہیں کیونکہ دوبارہ تعزیت سے میت کے ورثاء کو بہت زیادہ صبراورتسلی ہوگی اور لوگ بھی اس کو صلہ رحمی،زیادہ تعلق کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور جو لوگ دوبارہ گھر میں تعزیت کے لیے نہیں آتے تو کبھی کبھار یا زیادہ تر میت کے ورثاء ان لوگوں سے ناراض ہوجاتے ہیں۔
ایک طرف ہماری فقہ کا مسئلہ ہے کہ دوبارہ تعزیت مکروہ تنزیہی ہے علت “تجدد حزن” شامی نے ذکر کی ہے۔
دوسری طرف اگر قواعد پر نظر ڈالیں کہ “الحکم یدار مع العلة” تو دوبارہ تعزیت کرنے سے اگر تجدد حزن نہ ہوتا ہو تو کیا اس قاعدے کی بنیاد پر دوبارہ تعزیت صرف ہمارے علاقے میں مکروہ تنزیہی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تجدد حزن ایک مخفی امر ہے اور جب علت مخفی امر ہو تو اس علت کے ظاہری سبب کو ہی اس کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے فقہ میں اس کی متعدد نظیریں موجود ہیں لہذا دوبارہ تعزیت جو کہ تجدد حزن کا سبب ہے مذکورہ صورت میں بھی مکروہ ہوگی۔
الدر المختار مع رد المحتار(3/177) میں ہے:
ولا بأس ….بتعزية أهله وترغيبهم في الصبر وباتخاذ طعام لهم وبالجلوس لها في غير مسجد ثلاثة أيام،وأولها أفضل.وتكره بعدها إلا لغائب.وتكره التعزية ثانيا.
(قوله وتكره بعدها)لأنها تجدد الحزن۔منح۔والظاهر أنها تنزيهية ط۔
(قوله:وتكره التعزية ثانيا)في التتارخانية:لا ينبغي لمن عزى مرة أن يعزي مرة أخرى.
البحر الرائق(2/207)میں ہے:
ويكره للمعزى ان يعزي ثانيا.
کفایت المفتی(4/158)میں ہے:
“اور جو شخص ایک مرتبہ تعزیت کر آئے اس کو دوبارہ جانا مکروہ ہے”
فتاوی دار العلوم دیوبند (5/282)میں ہے:
سوال:ایضا،دركتاب مذكور است دوباره تعزيت مكروه است۔جناب اگر بذریعہ خط تعزيت داده شدبار دیگر تعزيت مشافتہ بلسان بلا کراہت جائز است یا نہ؟
الجواب:فى الدر المختار ايضاً وتكره التعزية ثانیا۔ ایں عام است کہ اولا بکتابت و ثانیاً بالمشافہ باشد یا بر عکس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved