• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

دوران طواف وضو ٹوٹنے کا حکم

استفتاء

دوران طواف اگر کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو کتب حج میں مذکور ہے کہ اگر اس نے کم از کم چار چکر لگائے ہیں تو وہ وہیں سے طواف مکمل کرے، اور اگر اس سے کم لگائے ہیں، تو از سرِ نو طواف کرے۔ لیکن آج کل رش کی وجہ سے اگر اس پر عمل کرنا مشکل ہو، تو آیا بہر صورت وہ وہیں سے طواف شروع کر سکتا ہے، جہاں چھوڑا تھا یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

طواف کے چار چکر لگانے سے پہلے کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کو از سر نو طواف کرنا بہتر اور افضل ہے۔ لہذا اگر اس پر عمل کرنا مشکل ہو تو وہیں سے طواف شروع کر سکتے ہیں، جہاں سے چھوڑا تھا۔

و لو خرج منه أو من السعي إلی جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بنی. و في الشامية: قوله (بنی) أي علی ما كان طافه و لا يلزمه الاستقبال فتح. قلت ظاهره أنه لو استقبل لا شيء عليه فلا يلزمه إتمام الأول، لأن هذا الاستقبال للإكمال بالمولاة بين الأشواط، ثم رأيت في اللباب ما يدل عليه حيث قال في فصل مستحبات الطواف: منها استئناف الطواف لو قطعه أو فعله علی وجه مكروه. قال شارحه: لو قطعه أي و لو بعذر. و الظاهر أنه مقيد بما قبل إتيان أكثره. (رد المحتار: 3/ 582)

و كذا في إعلاء السنن: 10/ 85 تا 87. فقط و الله تعالی أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved