• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

دعا میں ایسا مقام کہ دعا سے رک جانا چاہیے

استفتاء

کیا دعا میں ایسا کوئی مقام آتا ہے کہ جب دعا مانگنی چھوڑ دینی چاہیے؟

تنقیح: سائل نے وضاحت کے طلب کرنے پر ایک وڈیو کا لنک بھیجا جس کا عنوان ہے کہ "کب کوئی چیز مانگنا چھوڑدینا چاہیے” جس میں متکلم سے کسی نے سوال کیا کہ ہمیں کب پتہ چلے گا کہ  ہم  جس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے  ہیں، دعائیں کررہے ہیں وہ چھوڑ دیں اور ہمت ہاردیں۔ابتدائی حصہ  میں موصوف نے کسی ماہر نفسیات کے حوالے سے چند باتیں ذکر کیں جو اس بات کی علامت ہوتی ہیں کہ جس چیز کی طلب میں انسان لگا ہوا ہے اس کی طلب کو  چھوڑدینا بہتر ہے۔اس کے بعد اسلام کا نکتہ نظر بتاتے ہوئے موصوف کہتے ہیں کہ استخارہ کریں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مشورہ کریں اور اس کے بعد بھی اگر مشکلات آرہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اب اس چیز کی طلب چھوڑدینی چاہیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دعا میں ایسا کوئی مقام نہیں آتا کہ جس میں دعا چھوڑدینی چاہیے بلکہ دعا کرتے رہنا چاہیے البتہ دعا قبول ہونے کا مطلب سمجھ لینا ضروری ہے جو یہ ہے کہ  یا (1) دعا  کے مطابق دنیا ہی میں اس کی خواہش پوری کردی جاتی ہےیا (2) وہ دعا آخرت کے لیے ذخیرہ بن جاتی ہے یا (3)  دعا کی برکت سے دعا مانگنے والے سے  کوئی مصیبت ٹال دی جاتی ہے چناچہ  مذکورہ بیان میں بنیادی غلط فہمی یہی ہے کہ بیان کرنے والے نے دعا کی قبولیت کو ایک ہی شکل میں منحصر کردیا اور اس شکل کے ظاہر نہ ہونے کی صورت میں دعا کے ترک کا مشورہ دیا  حالانکہ اول تو حدیث مبارکہ میں  قبولیت کے معاملے میں جلد بازی سے منع کیا گیا ہے اور دوم یہ کہ دعا کی قبولیت کی صرف ایک ہی صورت   نہیں ہے بلکہ کئی صورتیں ہیں اور قبولیت کی ایک صورت کے ظاہر نہ ہونے سے دعا ترک نہیں کرنی چاہیے  بلکہ دعا کوعبادت سمجھ کر جاری رکھنا چاہیے کیونکہ قبولیت کی کوئی نہ کوئی صورت تو بہرحال ضرور ہوگی۔

مسند احمد (رقم الحدیث: 11133) میں ہے:

عن أبي سعيد، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم، ولا قطيعة رحم، إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث: إما أن تعجل له دعوته وإما أن يدخرها له في الآخرة، وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها ” قالوا: إذا نكثر، قال: الله أكثر

ترجمہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ  جب کوئی مسلمان ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ یا قطع رحمی کی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ تین باتوں میں سے ایک اسے ضرور عطا فرماتا ہے۔

(1)یا دعا کے مطابق دنیا ہی میں اس کی خواہش پوری کردی جاتی ہے۔

(2)یا اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ بنا دیا جاتاہے۔

(3)یا دعا کی برکت سے اس سے کوئی اور مصیبت ٹال دی جاتی  ہے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:        ” تب تو ہم کثرت سے دعا کریں گے۔  حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ اس سےبھی بہت زیادہ دینے والا ہے ”

صحیح مسلم(رقم الحدیث 2735) میں ہے:

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا يزال يستجاب للعبد، ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم، ما لم يستعجل» قيل: يا رسول الله ما الاستعجال؟ قال: يقول: «قد دعوت وقد دعوت، فلم أر يستجيب لي، فيستحسر عند ذلك ويدع الدعاء

’’ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور قبولیت کے معاملے میں جلد بازی نہ کرے، اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے۔” عرض کی گئی: اللہ کے رسول! جلد بازی کرنا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ کہے: میں نے دعا کی اور میں نے دعا کی اور مجھے نظر نہیں آتا کہ وہ میرے حق میں قبول کرے گا، پھر اس مرحلے میں (مایوس ہو کر) تھک جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved