- فتوی نمبر: 6-316
- تاریخ: 19 مارچ 2014
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
میں ایک عرصہ سے ایک سوچ میں تھا کہ ہمارے گھروں میں، معاشرے میں کچھ الفاظ ایسے بولے جاتے ہیں جو معاشرہ میں بگاڑ اور بے حیائی کو جنم دیتے ہیں۔ اسلام ہمیں جو بھائی چارے اور بہن بھائی کا پرچار کرتا ہے، ہم اسے چھوڑ کر اپنا مطلب نکالتے ہوئے اس قدغن اور پابندی کو جو اسلام ہم پر لگاتا ہے نکال کر آسانی اور بے معنیٰ الفاظ اپنا کر بے پردگی اور بے حیائی میں اضافہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
لفظ “بھابی” جو میں سمجھتا ہوں کہ ہندو یا سکھ قوم میں متحد پاک و ہند میں بولا جاتا تھا، الگ ہونے کے بعد بھی ہم نے اسے اپنایا ہوا ہے، لفظ “کزن، آنٹی” اور اس قسم کے الفاظ “انکل، باس، اور سر” جیسے الفاظ بھی عام ہیں، جو کہ معاشرہ میں بگاڑ اور بے حیائی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
اسلام ہمیں رشتہ کے حوالہ سے حقیقی الفاظ دیتا ہے وہی استعمال کرنے چاہیے، آنٹی، انکل، کزن لفظ انگلش زبان کے ہیں، مگر ہمیں اسلامی معاشرہ کو پروان چڑھانے کے لیے اسلام کا ہی سہارہ لینا پڑے گا کہ وہ ہمیں کیا رہنمائی کرتا ہے۔
ہم سب بہن بھائی ہیں، ایک دوسرے کو پکارنے کے لیے باجی، بہن، بھائی جان یا بھائی ہی کہہ کر پکارا جانا چاہیے، کسی کو چھوٹا ہونے کے ناطے بھی نام لینا مقصود ہو گا تو بہن بھائی ساتھ لگانے سے چھوٹوں کی عزت نفس میں اضافہ ہو گا نہ کہ بڑے کی عزت میں کمی واقع ہو گی اور جو حقیقی رشتہ چچا، ماموں، ممانی، خالہ، خالو، پھوپھا، پھوپھی وغیرہ دور کے رشتوں میں بھی دیکھا جائے تو انہیں بھی سوچتے سمجھتے ہوئے انہی رشتوں سے پکارا جانا چاہیے، جس کا تعین با قاعدہ کیا جا سکتا ہے کہ فلاں میرا کس رشتہ سے ہے اور میرا کیا لگتا ہے اور اسی رشتہ کی مطابقت سے پکارا جائے، اس میں غریب و امیر کا فرق نہ رکھا جائے اور خصوصاً اپنے سے کم آمدنی والے رشتہ داروں کی عزت نفس مجروح نہ ہونے پائے۔
میں ان متذکرہ بالا معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے خاندان میں بفضل اللہ تعالیٰ بڑا ہونے کے ناطے عملی اقدام چاہتا ہوں، اسے اپنے گھر سے ہی شروع کیا جائے اور اپنے گھر والوں کو پابند کیا جائے کہ لفظ بھابی ترک کر دیا جائے اور یہ کہ لفظ بہن، باجی، بھائی اور دیگر رشتوں کو ان رشتوں کے مطابق ہی پکارا جائے، اسلامی نقطۂ نظر سے تو پردے کے بارے میں جو احکامات آئے ہیں، ہمیں تو اصل تو اسی پر ہی چلنا چاہیے۔ شرعی پردہ جو ہمارا دین ہیں بتاتا ہے اسی پر سو فیصد انشاء اللہ چلنا ہے۔
متذکرہ بالا جو طرز عمل اپنانے کو کہا جا رہا ہے وہ اسی شرعی پردے کی طرح ایک قدم ہے، شرعی پردے میں محرم اور غیر محرم کی اصطلاح ہے، جسے سمجھنے کے لیے کسی زیادہ تعلیم کی ضرورت نہیں باشعور کے لیے یہ الفاظ محرم اور غیر محرم کا سامنے آ جانا ہی کافی ہے، جن رشتوں کا آپس میں شادی کے لیے جوڑا جا سکتا ہے، یعنی جن کی آپس میں شادی ہو سکتی ہے وہ تمام رشتے غیر محرم کہلائیں گے اور جن رشتوں کی آپس میں شادی نہیں ہو سکتی وہ محرم کہلائیں گے۔ اور یہ کہ ہر غیر محرم کو ایک دوسرے سے پردہ کرنے کا حکم ہے، یہ حکم شریعت نے دیا ہے اور یہ کہ صرف اور صرف محرم کو ایک دوسرے سے پردہ کرنے پر استثناء حاصل ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر اس اصطلاح کی وضاحت کی گئی ہے،ہم ہیں کہ اس محرم اور غیرم محرم کی اس اصطلاح کو عملی شکل دینے کی بجائے کھلم کھلا مخالفت کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نفی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس اصطلاح کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
آئیں آج سے اس شرعی پردے کی طرف بڑھتے ہوئے ان متذکرہ بالا اقدام سے ابتداء کریں کہ آئندہ ہم سب ایک دوسرے کے اصلی رشتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسی رشتہ (بھائی، بہن، بیٹی، ماں، چچا، ممانی وغیرہ) سے پکارا کریں گے، اور یہ کہ لفظ بھابی، آنٹی، انکل، سر وغیرہ ترک کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
ہم سب متعلقہ معاملہ سے اتفاق کرتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ آئندہ اس کا خیال رکھتے ہوئے اپنی اصلاح فرمائیں گے اور مکمل طور پر عمل کریں گے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ زبانوں (languages) کی ایجاد میں اور ان میں توسیع میں اس کا بڑا حصہ ہوتا ہے کہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو ان میں اس طرح مخلوط کر دیا جاتا ہے کہ وہ نئی زبان و لغت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کا دین سے تعلق نہیں ہوتا۔ بھابی (یا بھابھی) کے لفظ کے ساتھ بھی ایسے ہوا ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو بھائی اور بھابھی کے الفاظ کی اصل ایک ہی معلوم ہوتی ہے۔ ہاں اگر ایسا لفظ ہو جس کو کافر قوم کے ہاں مذہبی تقدس حاصل ہو اور ان کے مذہبی شعار پر دلالت کرتا ہو مثلاً میلا رام میں رام کا لفظ ہے، ایسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔
2۔ بھائی حقیقی یعنی نسبی تو ہوتے ہی ہیں دینی اور قومی بھی ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ علیہا السلام کے بارے میں بادشاہ کو بتایا کہ وہ ان کی بہن ہیں (یعنی دینی بہن ہیں)۔ قرآن پاک میں ہے کہ ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے (قومی) بھائی ہود علیہ السلام کو اور قوم ثمود کی طرف ان کے (قومی) بھائی صالح علیہ السلام کو بھیجا۔
3۔ کسی بڑے کو چچا یا انکل کہنا مجاز ہے اور ہر دور میں مجازات چلتے ہیں۔ کیا کوئی بہو یا داماد اپنے ساس سسر کو ساس یا سسر کے لفظ سے خطاب کرے یا ساس اور سسر ان کو داماد اور بہو کہہ کر خطاب کرے۔ اسی طرح کیا آدمی اپنے سالے کو سالا کہہ کر خطاب کرے۔
غرض یہ تحریر مفید نہیں ہے اور اصلاحی بھی نہیں ہے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved