• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک طلاق کا حکم

استفتاء

گزارش ہے کہ میں( ***)  ****لاہور نزد جنرل ہسپتال کی رہائشی ہوں۔ میرے شوہر *** ولد ***  بھی **** کے رہائشی ہیں۔ 6 اگست 2025 بروز بدھ  میرا نکاح گاڑی کے اندر میرے شوہر کے کزن کی گواہی میں ہوا ،نکاح خواں  صاحب گاڑی میں تشریف لائے ہمارا نکاح حدیث و سنت کے مطابق ہوا ۔ یہاں بتاتی چلوں   کہ  میری طرف سے گواہ کوئی نہیں تھا اور نکاح ہم دونوں کی رضامندی سے ہوا تھا۔ میں نے 2021 میں اپنے پہلے شوہر سے مار پیٹ کی وجہ سے خلع لے رکھی ہے، میری دو بیٹیاں ہیں ایک کی عمر سات سال اور  ایک کی چھ سال ہے۔ 25 ستمبر 2025  کی رات کو  کسی چھوٹی سی بات کی وجہ سے میرے شوہر نے مجھے طلاق  دے دی۔ اور بعد ازاں یہ بھی کہا یہ ایک طلاق دی ہے ابھی دو باقی ہیں ہم قاری صاحب سے  فتویٰ لے کر دوبارہ زندگی کا آغاز کریں گے۔کسی مسئلے کی وجہ سے وہ نہیں آسکے مگر جب ہمیں معلوم ہوا کہ  ہمیں تمام مسئلہ تحریری طور پر بیان کرکے فتویٰ  آن لائن مل سکتا ہےاس سے ہمیں تسلی ہوئی اور یہ بھی بتاتی چلوں کہ  میں اپنے شوہر شہباز کی دوسری بیوی ہوں اس کی پہلی بیوی کی اجازت سے یہ نکاح ہوا مگر کوئی اجازت نامہ تحریری طور پر کہیں بھی جمع نہیں ہے۔ اجازت نامے کے تمام معاملات زبانی کلامی پہلی بیوی کی طرف سے سر انجام پائے ۔اب ہم بہت پریشان اور ایک بہت بڑی اذیت سے گزر رہے ہیں خاص طور پر میں (***)کیونکہ میرا ***(شوہر) کے علاوہ کوئی نہیں۔  اب اس واقعے کے بعد میرے والدین  نے بھی مجھے اپنانے سے انکار کردیا ہے ۔میں *** اور میرے شوہر *** ہم دونوں مسلمان ہیں اور ایک اللہ اور ایک رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والے ہیں ۔اس بارے میں فتویٰ  جاری کرکے میری مدد کریں تاکہ میں اپنا گھر عزت سے دوبارہ بسا سکوں ۔ براہ کرم جلد از جلد مجھے تحریری طور پر یہ  فتوی جاری کیا جائے کیونکہ میرے گھر والوں کو جب اس بات کا علم ہو ا تو انہوں نے مجھ سے میری چھت  بھی چھین لی،  میں کسی ہاسٹل  میں قیام پذیر ہوں۔ جلد از جلد فتوی جاری کیا جائے تاکہ میں اپنے شوہر سے رجوع کروں۔

تنقیح : پہلے شوہر سے خلع  مارپیٹ اور خرچہ نہ دینے کی وجہ سے لی ہے عدالتی خلع ہے خلع پرسابقہ شوہر کے تمام دستخط  ہیں اور خلع  میونسپل کمیٹی اور نادرا میں درج ہیں ۔نکاح کے وقت گاڑی میں چار لوگ تھے ایک نکاح خواں  ایک گواہ اور میاں بیوی اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ ایک طلاق بول کر چھوڑ دیا اور کہا اب بس میں نہیں رکھوں گا۔ اس نکاح میں والدین کی رضا مندی نہیں تھی لیکن بعد میں بتا دیا تھا ۔

نوٹ:  سائلہ فون نہیں اٹھارہی تھی  اس لیے واٹس ایپ پر تنقیح  لی گئی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں شوہر نے اگر واقعۃً ایک طلاق بولی ہے  تو ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی ہے اور شوہر کو عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے اگر عدت کے اندر رجوع کر لیا تو ٹھیک ہے اور اگر عدت کے  اندر رجوع نہ کیا تو عدت کے بعد اکٹھے رہنے کے لیے نئے  مہر اور کم از کم  دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔

نوٹ:رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں  آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا۔

شامی (4/443) میں ہے:

(هي استدامة الملك القائم) ‌بلا ‌عوض ‌ما ‌دامت (في العدة)  ………… (بنحو)  (رجعتك)

شامی(3/247) میں ہے:

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..

ہندیہ (1/526) میں ہے:

إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو ‌وقعت ‌الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية

بدائع الصنائع(3/283)میں ہے:

أما ‌الطلاق ‌الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved