- فتوی نمبر: 32-99
- تاریخ: 14 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارۃ الاشخاص
استفتاء
میں ایک فیکٹری میں مینیجر کی ڈیوٹی کرتا ہوں، میرے ماتحت تقریباً 800 ورکر کام کرتے ہیں ، میں نے فیکٹری چلانے کے کچھ اصول بنائے ہیں جو میرے ذاتی بنائے ہوئے ہیں اس میں فیکٹری کا کوئی عمل دخل نہیں ہے لیکن تمام ورکرز کو یہ اصول معلوم ہیں مثلا اگر کوئی ڈیوٹی کے دوران کہیں جاکر سو گیا تو پکڑے جانے پر ملازمت سے فارغ کردیا جائے، کام خراب کرنے پر جرمانہ کرنا، کسی ورکر کی چوری یعنی موبائل وغیرہ چوری کرنے پر چوری کا مال یا اس کی قیمت مالک کو واپس کرنا اور سزا کے طور پر اس کا منہ کالا کرنا یا گلے میں چور کی تختی لٹکا کر فیکٹری میں چکر لگوانا اس طرح پہلے سے بتائے ہوئے اصولوں کے خلاف کام کرنے پر سزا دینا جائز ہے یا نہیں؟ ہم چور کو پولیس کے حوالے نہیں کرتے اسے فیکٹری سے فارغ کردیتے ہیں اور جرمانہ فیکٹری کے اکاؤنٹ میں جمع ہوجاتا ہے ، کیا فیکٹری چلانے اور اس میں نظم وضبط رکھنے کے لیے کچھ سزا وغیرہ دینا مجھے انفرادی طور پر جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں فیکٹری چلانے کے لیے جو اصول آپ نے بنائے ہیں ان میں سے بعض جائز ہیں اور بعض جائز نہیں۔مثلاً ڈیوٹی کے دوران سونے پر ملازمت سے فارغ کردینا جائز ہے ، اسی طرح کام خراب کرنے پر حقیقی نقصان کے بقدر جرمانہ کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ نقصان ملازم کی کوتاہی یا غفلت سے ہوا ہو، اسی طرح چوری کرنے پر چوری کا مال یا اس کی قیمت مالک کو واپس کرنا بھی جائز ہے ۔ باقی نقصان کی صورت میں حقیقی نقصان سے زائد رقم بطور جرمانے کے لینا یا چوری کی صورت میں چوری کے مال سے زائد رقم بطور جرمانے کے لینا یا سزا کے طور پر چور کا منہ کالا کرنا یا گلے میں چور کی تختی لٹکا کر فیکٹری میں چکر لگوانا یا بتائے ہوئے اُصولوں کی خلاف ورزی پر مالی یا جسمانی سزا دینا جائز نہیں البتہ ان صورتوں میں ملازم کو ملازمت سے فارغ کرنا جائز ہے۔
السنن الکبری للبیہقی (کتاب الغصب، 6/100)میں ہے:
’’لايحلّ مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه منه‘‘۔
ردالمحتار (4/61) میں ہے:
مطلب في التعزير بأخذ المال۔ (قوله بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح، و عن أبي يوسف يجوز التعزير للسطان بأخذالمال و عندهما و باقي الأئمة لايجوز، و مثله في المعراج۔ وظاهره أن ذلک رواية ضعيفة عن أبي يوسف، قال في الشرنبلالية ولا يفتي بهذٰا، لمافيه من تسليط الظلمة علي أخذ مال الناس فيأ کلونه‘‘۔
رد المحتار (4/61) میں ہے:
’’والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال‘‘
شرح المجلۃ(2/710)میں ہے:
(المادة 607) (لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير أو تقصيره يضمن.)
سواء کان الاجیر خاصا او مشترکاً ،وسواء کانت الإجارة صحيحة أو فاسدة؛ لأن المستأجر فيه أمانة في يد الأجير ،والامانة تصیر مضمونة بالتعدی او تقصیر بالحفظ،وهو ظاهر۔
دررالحکام فی شرح مجلۃالاحکام (1/ 703)میں ہے:
«(المادة 607) لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير أو تقصيره يضمن.
لضمان الأجير ثلاث قواعد
القاعدة الأولى – إذا تلف المستأجر فيه أو فقد بتعدي الأجير أي الأجير الخاص أو المشترك أو تقصيره في أمر المحافظة ضمن سواء أكانت الإجارة صحيحة أو فاسدة؛ لأن المستأجر فيه أمانة في يد الأجير ويكون مضمونا بالتعدي والتقصير»
الفقہ الاسلامی وادلتہ(5/3847)میں ہے:
«الأجير الخاص (وهو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل) كالخادم في المنزل والأجير في المحل، اتفق أئمة المذاهب وهم (الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة) على أنه لا يكون ضامنا العين التي تسلم إليه للعمل فيها؛ لأن يده يد أمانة كالوكيل والمضارب، كما إذا استأجر إنسان خياطا أو حدادا مدة يوم أو شهر ليعمل له وحده، فلا يضمن العين التي تهلك في يده، ما لم يحصل منه تعد أو تقصير في حفظه، سواء تلف الشيء في يده أو أثناء عمله.»
المعاییر الشرعیہ(ص:458)معیار الاجارہ (4/5)میں ہے:
الاجير الخاص لا يضمن الهلاك إلا عند التعدي أو التقصير أو مخالفة المشروط۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved