- فتوی نمبر: 30-242
- تاریخ: 12 اگست 2023
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز وتر کا بیان
استفتاء
نماز فجر میں قنوت نازلہ میں دعاؤں پر اونچی آواز سے آمین کہنا کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے۔
حلبی کبیر (ص:403) میں ہے:
وإن قنت المقتدي أو امن لا يرفع صوته بالاتفاق لئلا يشوش غيره ولان الاصل فى الدعاء الاخفاء.
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (4/153) میں ہے:
صبح کی نماز میں بعد رکوع کے جوکہ اس زمانہ میں دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے اس میں ہم لوگوں کا معمول یہ ہے کہ ہاتھ لٹکائے رہتے ہیں کیونکہ اس موقع پر ہاتھ کا باندھنا نہیں آیا اور اٹھانا بھی احناف کے قواعد سے چسپاں نہیں ہیں اس لیے یہی احوط اور بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ چھوڑے رکھے اور مقتدی آمین باخفاء کہیں۔
کفایت المفتی (3/444) میں ہے:
اگر دعائے قنوت نازلہ مقتدیوں کو یاد ہو تو بہتر ہے کہ امام اور مقتدی سب آہستہ آہستہ پڑھیں اور مقتدی نہ پڑھ سکیں تو بہتر ہے کہ امام زور سے یہ دعا پڑھے اور مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہتے رہیں۔
جواہر الفقہ(1/371) میں ہے:
قنوت نازلہ صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد امام بآواز بلند یہ دعا پڑھے اور مقتدی آمین کہتے رہیں ۔
جواہر الفقہ کے حاشیہ میں ہے:
مقتدی آمین جہراً کہیں یا سراً ، اس کی کوئی تصریح فقہاء کے کلام میں نہیں ملی البتہ کبیری شرح منیہ میں قنوت وتر کے بارے میں لکھا ہے کہ :
وإن قنت المقتدي أو امن لا يرفع صوته بالاتفاق لئلا يشوش غيره ولان الاصل فى الدعاء الاخفاء.
اس سے رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ مقتدی آمین سراً کہے جہراً نہ کہے۔
مسائل بہشتی زیور(8/232) میں ہے:
اگر دعائے قنوت مقتدیوں کو یاد ہو تو امام بھی آہستہ پڑھے اور سب مقتدی بھی آہستہ پڑھیں اور اگر مقتدی کو یاد نہ ہو جیساکہ عام طور سے ہوتا ہے تو امام آواز سے دعا کے کلمات کہے اور سب مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہتے رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved