• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

فرض نماز کی ایک ہی رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھنے کا حکم

استفتاء

فجر کی نماز میں  ’’الم‘‘  سے شروع ہو کر چار آیات پڑھ کر ایک رکعت مکمل کرنے کے بعد ددوسری رکعت میں چاروں قل ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ طریقہ سنت کے خلاف ہے اور مکروہ تنزیہی ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں  (1) مذکورہ صورت میں دوسری رکعت پہلی رکعت سے لمبی ہوجاتی ہے اور فجر کی نماز میں تو دوسری رکعت پہلے رکعت سے لمبی کرنا اگرچہ تین آیات سے کم ہو مکروہ ہے (2) ایک رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھنا (3) ایک ہی رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھ کر درمیان میں ایک یا ایک سے زائد سورتیں چھوڑنا بھی مکروہ ہے۔

درالمختار(2/322) میں ہے:

(وإطالة الثانيه علي الأولى يکره) تنزيهاً (إجماعاً إن بثلاث  آيات) إن تقاربت طولاً و قصراً، و إلا اعتبر الحروف و الکلمات، وواعتبر الحلبي فحش الطول لا عدد الآيات، و استثني فى البحر ما وردت به السنة، و استظهر فى النفل عدم الکراهة مطلقاً (وإن بأقل لا) يکره، لأنه عليه الصلاة و السلام صلى بالمعوذتين

قال فى الرد تحته: الحاصل: أن سنية إطالة الأولى علي الثانية و کراهية العکس إنما تعتبر من حيث عدد الآيات إن تقاربت الآيات طولاً و قصراً فإن تفاوتت تعتبر من حيث الکلماتدرالمختار(2/321-322) میں ہے:(وتطال أولى الفجر علي ثانيتها) بقدر الثلث، و قيل النصف ندبا؟ فلو فحش لا بأس به…… (وإطالة الثانية علي الأولى يکره)

قال الرافعى: قول المصنف: (وإطالة الثانية علي الأولي يکره) ماقاله المصنف انما يظهر فى غير الفجر علي قولهما بالتسوية فيه لا علي قول محمد؟ لانه لو قيل بکراهة الزيادة ولو قليلة لزم الحرج لتعسر الاحتراز عن القليل منها، فلذا کان مناط الکراهة الزيادة الکثيرة، و الفجر حيث کانت اطالة الاولى فيه مسنونة کانت التسوية فيه او زيادة الثانية و لو دون ثلاث مکروهة تامل.رد المحتار(2/330) میں ہے:

إما فى رکعة فيکره الجمع بين سورتين بينهما سور أو سورة فتح، و فى النتار خانية: أذا  جمع بين سورتين فى رکعة رأيت فى موضع أنه لا بأس به، وذکر شيخ الإسلام لا ينبغي له أن يفعل علي ما هو ظاهر الرواية ۱ه، و فى شرح المنية: الأولى أن لا يفعل فى القرض و لو فعل لا يکره إلا أن يترک بينهما سورة أو أکثر

احسن الفتاویٰ(3/448) میں ہے:

فرائض میں بالاتفاق اور نوافل میں علی الراجح دوسری رکعت کا اطالہ مکروہ تنزیہی ہے، اطالہ کی مقدار میں راجح اور سہل قول یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں تفاوت بین ہو۔

فتاویٰ دار العلوم دیوبند(2/183) میں ہے:

سوال: نماز میں اول رکعت سے دسری رکعت میں زیادہ قراءت مکروہ ہے۔ یہ بحساب آیتوں کے ہے یا بحساب حروف کے یا بحساب کلمات کے؟

جواب: اگر آیتیں برابر یا قریب برابر کے ہےں تو عدد آیات کا اعتبار ہے کہ دوسری رکعت کی قراءت تین آیات سے زیادہ نہ ہو۔ اور اگر آیات متفاوت ہوں طول و قصر میں تو حروف و کلمات کا اعتبار ہے۔ الخ فقط

سوال: عشاء یا صبح کی نماز میں امام ایک رکعت میں دوسورتیں پڑھے تو کچھ کراہت تو نماز میں نہیں آئی (جواب) ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنا خلاف اولیٰ ہے۔ نماز ہوجاتی ہے اور خلاف اولیٰ سے مراد کراہت تنزیہ ہے۔۔۔الخ

فتاویٰ محمودیہ(7/91) میں ہے:

سوال: ایک امام نے صبح کی نماز میں فاتحہ کے بعد سورۃ جمعہ پڑھا پھر  ’’انا انزلنا‘‘  پڑھا اور دوسری رکعت میں سورہ الم ترکیف سے لے کر سورہ ناس تک پڑھا۔ کیا اس طرح فرض نمازوں میں سورتوں کا ملانا درست ہے یا نہیں؟ جواب دلیل کے ساتھ تحریر کریں۔

جواب: اس طرح ایک رکعت میں متعدد سورتوں کو فرض نماز میں جمع کرنا ثابت نہیں۔ اس لیے خلاف سنت ہے۔ لیکن نماز پھر بھی ادا ہوگئی سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوا۔ کیونکہ کوئی واجب ترک نہیں ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved