- فتوی نمبر: 34-373
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > نام رکھنے سے متعلق
استفتاء
فرزند الٰہی نام رکھنا درست ہے؟ اگر رکھ لیا تو بدل دیں یا باقی رہنے دیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
فرزند الٰہی نام نہیں رکھنا چاہیے اور اگر رکھ لیا ہے تو بدل دینا چاہیے۔البتہ” الہٰی” کا لفظ اگر اضافت کے طور پر نہ ہو بلکہ خاندانی نام کے طو رپر ہو جیسے “پرویز الہٰی” کے خاندان میں ہے تو پھر مذکورہ نام کی گنجائش ہے۔
توجیہ: فرزند کے معنی ہیں” بیٹا” اور الہی کے معنی میں دو احتمال ہیں :
1۔”یا”متکلم کی ہو اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا “میرے اللہ کا بیٹا” اس احتمال کی صورت میں یہ نام رکھنا جائز نہیں کیونکہ اس سے عیسائیوں کے عقیدے کی تائید ہوتی ہے جوکہ شرک ہے۔
2۔ الہی میں “یا” نسبت کی ہو ۔اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا “اللہ والے کا بیٹا” اس احتمال کی صورت میں یہ نام رکھنا جائز ہے۔
چونکہ شریعت میں ایسا نام رکھنے سے بچنا چاہیے جو موہوم شرک ہو لہٰذا مذکورہ نام نہیں رکھنا چاہیے۔
المبسوط للسرخسی (11/ 237) میں ہے:
«لأن النصارى يقولون المسيح ابن الله تعالى عن ذلك علوا كبيرا، ونحن نتبرأ من إله له ولد،»
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2997) میں ہے:
«ولا يجوز نحو عبد الحارث ولا عبد النبي، ولا عبرة بما شاع فيما بين الناس.»
فرہنگ آصفیہ (2/349) میں ہے:
فرزند ،اسم مذکر: پوت ،بیٹا پسر ،ابن ،پتر، لڑکا ،جنا
فرہنگ آصفیہ (1/211) میں ہے :
1۔الہی اسم مذکر میرا خدا….2۔ اے میرے خدا، خدایا 3۔ ایک علم کا نام جس میں وجود اور ذات و صفات خدا سے بحث کی جاتی ہے ۔اگر اس “یے”کو “یا” متکلم سمجھیں تو اس کے معنی “میرا اللہ ہوں گے” اور جو یائے نسبت خیال کریں تو منسوب بہ خدا ۔ربانی۔خدائی جیسے حکم الہی یعنی امر ربانی۔
لغات روزمرہ از شمس الرحمٰن فاروقی (ص:253) میں ہے:
فک اضافت: اضافت ہمارے یہاں دو طرح ظاہر کی جاتی ہے:
(1) مضاف مضاف الیہ کے بیچ میں زیر لگا کر اسے کسرہ اضافت کہتے ہیں۔
(2)مضاف اور مضاف الیہ کے بیچ کا، کے، کی لگا کر۔ اسے علامت اضافت کہتے ہیں ۔
کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ دو لفظوں کے بیچ سے کسرہ یا علامت اضافت اڑا دیتے ہیں لیکن مفہوم مرکب اضافی کا ہی رہتا ہے اسے فک اضافت کہتے ہیں ………… مثال “ڈاک گھر” یعنی ڈاک کا گھر ، “چاند گرہن” یعنی چاند کا گرہن۔
فتاویٰ رشیدیہ (ص:191) میں ہے:
سوال: نبی بخش، پیر بخش …………. ایسے ناموں کا رکھنا کیسا ہے؟
جواب: ایسے نام موہم شرک ہیں، منع ہیں ان کو بدلنا چاہیے۔
کفایت المفتی (1/231) میں ہے:
علی بخش، پیر بخش، رسول بخش نام رکھنا اچھا نہیں ہے، اس میں شرک کا شائبہ اور ایہام ہے۔
فتاویٰ محمودیہ (19/374) میں ہے:
سوال : غلام محمد ،غلام نبی ،غلام رسول اور رسول بخش نام رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب : غلام محمد ،غلام نبی اورغلام رسول نام رکھنا درست ہے۔ رسول بخش نام نہیں رکھنا چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved