- فتوی نمبر: 10-143
- تاریخ: 09 اگست 2016
- عنوانات: حظر و اباحت > زیب و زینت و بناؤ سنگھار
استفتاء
1۔ آج کل آگے چہرے کی طرف سے بالوں کی لٹیں کاٹنے کا فیشن ہے۔ اگر کوئی شرعی پردہ کرنے والی خاتون اپنے خاوند کے لیے کاٹے تو اس کا کیا حکم ہے آیا کاٹ سکتی ہے؟ کیونکہ اکثر باہر عورتوں پر نظر پڑنے کی صورت میں خاوندوں کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میری بیوی بھی یہ فیشن کرے اور بعض اوقات لڑکیوں کو بھی ایسے فیشن کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
2۔ نیز چٹیا کے نچلے حصے یعنی بالکل آخری نوکیں خراب ہونے کی صورت میں کاٹ سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ پردہ دار خواتین کے لیے بھی چہرے کی طرف سے بالوں کی لٹیں کاٹنا جائز نہیں، خواہ اپنے شوق سے کاٹیں یا اپنے شوہروں کی خاطر زینت اختیار کرنے کے لیے کاٹیں، کیونکہ چہرے کی طرف سے بالوں کی لٹیں کاٹنے میں بے دین عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے اور خواتین کے لیے بیماری یا حج و عمرے کے علاوہ اپنے بال اس حد تک کاٹنا یا اس انداز سے کاٹنا کہ جس سے مردوں کے ساتھ یا کافر عورتوں کے ساتھ یا بے دین عورتوں کے ساتھ مشابہت ہو جائز نہیں۔
2۔ اگر بالوں کی دو نوکیں بننے کی وجہ سے بالوں کی بڑھوتری رُ ک جائے تو ایسی صورت میں بالوں کے آخر سے ایک آدھ پورے کے برابر بالوں کو کاٹ سکتے ہیں تاکہ بال بڑھنا شروع ہو جائیں۔
الأشباه و النظائر میں ہے:
و تمنع من حلق رأسها. وفي الحموي: و تمنع عن حلق رأسها ” أي حلق شعررأسها، أقول ذكر العلائي في كراهته أنه لابأس للمرأة أن تحلق رأسها لعذر مرض و وجع و بغير عذر لا يجوز. المراد بلا بأس ههنا الإباحة لا ترك مافعله أولى و الظاهر أن المراد بحلق شعر رأسها إزالته سواء كان بحلق أو قص أو نتف أو نورة فليحرر. و المراد بعدم الجواز كراهة التحريم كما في مفتاح السعادة و لو حلقت فإن فعلت ذلك تشبها بالرجال فهو مكروه لأنها ملعونة. ( الأشباه مع الحموي: 3/ 73 )
وفي طحطاوي على الدر: قطعت شعر رأسها أثمت و لعنت ….. و المعنى المؤثر التشبه بالرجال ( قوله أثمت ) محمول على ما إذا قصدت التشبه بالرجال و إن كان لوجع أصابها فلا بأس به كذا في الهندية عن الكبرى و يدل على هذا التتقييد المعنى الذي ذكره. ( 4/ 203 )
و في الشامية: قطعت شعر رأسها أثمت و لعنت … و المعنى المؤثر التشبه بالرجال . قوله ( المعنى المؤثر) أي العلة المؤثرة في إثمها التشبه بالرجال فإنه لا يجوز كالتشبه بالنساء. ( 9/ 498 )
امداد الفتاویٰ (4/227) میں ہے:
’’۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورتوں کے لیے بال کٹانے اور وفرہ کی مثل بنانے جائز ہیں یا نہیں؟۔۔۔ الجواب: اس وضع مسئول عنہ کی حرمت پر دلائل صحیحہ قائم ہیں اور جواز کی دلیل میں چند احتمالات ہیں اس لیے حرمت ثابت اور جواز پر استدلال فاسد، امر اول کا بیان یہ ہے کہ مبنیٰ اس وضع کا یقیناً تشبہ بنساء الکفار ہے جو اہل وضع کو مقصود بھی ہے ۔۔۔ اور اطلاق دلائل سے یہ تشبہ ہر حال میں حرام ہے خواہ اس کا قصد ہو یا نہ ہو ۔۔۔۔‘‘
بوادر النوادر (ص: 372) میں ہے:
وفي الأشباه أحكام الأنثى قوله و تمنع من حلق رأسها أي حلق شعر رأسها إلى قوله و الظاهر أن المراد بحلق رأسها إزالته سواء كان بحلق أو قص أو نتف أو نورة …. وعن علي رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تحلق المرأة رأسها، رواه النسائي.
قلت: والحلق عام للقص أيضاً كما ذكر (أي في عبارة الأشباه في قوله ”المراد بحلق رأسها إزالته سواء كان بحلق أو قص إلخ: از ناقل) فشمله الحديث…..اور جو وضع نصاً منہی عنہ ہے اس کو معلل بعلت تشبہ کہنا بلا دلیل ہو گا اس لیے وہ علی الاطلاق منہی عنہ ہو گی خواہ اس میں تشبہ ہو یا نہ ہو کالحلق بالمعنیٰ العام او بالمعنیٰ الخاص، اور جو نصاً منہی عنہ نہ ہو گی اس کا حکم تشبہ پر دائر ہو گا۔
قلت أي محمد رفيق: ”المراد بالحلق بالمعنى العام إزالة الشعر بغير آلة الحلق كالقص و النتف والنورة والمراد بالحلق بالمعنى الخاص إزالة الشعر بآلة الحلق كالموسى.“
۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved