- فتوی نمبر: 9-291
- تاریخ: 21 مئی 2017
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کے فدیہ کا بیان
استفتاء
میرے مرحوم سسر صاحب کی جائیداد میں سے جو ہمیں ملا میں اس میں سے ان کی (1) نمازوں (2) روزوں اور (3) زکوٰۃ کے فدیہ کی ادائیگی کرنا چاہتا ہوں۔ کیا میں ان کے نام سے کوئی مسجد یا مدرسہ کا کمرہ بغیر تملیک کے بنوا سکتا ہوں؟ کیا ایسا کرنے سے ان کی طرف سے نمازوں، روزوں اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری اتر جائے گی؟ اگر ایسا نہیں تو اس کو کیسے استعمال کیا جائے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نماز اور روزوں کے فدیہ اور زکوٰۃ کی رقم کا مصرف مستحق زکوٰۃ لوگ ہیں۔ لہذا اس رقم کو مسجد کی تعمیر وغیرہ میں بغیر تملیک کے براہ راست خرچ کرنا جائز نہیں۔
فتاویٰ شامی (3/ 283، باب المصرف) میں ہے:
أي مصرف الزكاة والعشر ……… هو فقير. وفي الشامية تحت قوله: (أي مصرف الزكاة والعشر) يشير إلى وجه مناسبته هنا، والمراد بالعشر ما ينسب إليه كما مر، فيشمل العشر ونصفه المأخوذين من أر ض المسلم وربعه المأخوذ منه إذا مر على العاشر، أفاده ح. وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني.
فتاویٰ شامی (3/ 406) میں ہے:
وأما من أفطر عمدا فوجوبها عليه بالأولى (وفدى) لزوما (عنه) أي عن الميت (وليه) الذي يتصرف في ماله (كالفطرة).
قال في الشامية تحت قوله: (لزوماً) أي فداء لازما فهو مفعول مطلق: أي يلزم الولي الفداء عنه من الثلث إذا أوصى، وإلا فلا يلزم بل يجوز.قال في السراج: وعلى هذا: الزكاة لا يلزم الوارث إخراجها عنه إلا إذا أوصى، إلا أن يتبرع الوارث بإخراجها.
فتاویٰ شامی (3/ 408) میں ہے:
وإن لم يوص لا يجب على الورثة الاطعام لانها عبادة فلا تؤدى إلا بأمره، وإن فعلوا ذلك جاز ويكون له ثواب اه. ولا شبهة في أن الضمير في له للميت، وهذا هو الظاهر، لان الوصي إنما تصدق عن الميت لا عن نفسه، فيكون الثواب للميت.
کفایت المفتی (4/ 183) میں ہے:
’’سوال: میت نے نماز، روزہ وغیرہ کے متعلق وصیت نہ کی ہو۔ اور وارث اپنے طرف سے اس کے روزوں کا فدیہ ادا کرے تو کیا حکم ہے؟ اور فدیہ کے مستحق کون لوگ ہیں؟ ایسے مال کو مسجد وغیرہ میں لگایا جا سکتا ہے؟
جواب: میت نے فدیہ نماز وغیرہ کے متعلق وصیت نہ کی ہو اور وارث اپنے طور پر اپنے مال میں سے دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے۔ اور اس کے مستحق، فقراء و مساکین ہیں۔ صدقات واجبہ کا جو حکم ہے وہی اس کا ہے۔‘‘
اس کے حاشیہ نمبر 5 میں ہے:
’’کیونکہ یہ وارث پر اگرچہ واجب نہیں لیکن میت پر تو واجب تھا تو چونکہ وارث میت کی طرف سے اس پر واجب حق ادا کر رہا ہے، اس لیے اس کا حکم وہی ہو گا جو دوسرے صدقات واجبہ کا ہے۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved