• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

گاہک کے علم میں لائے بغیر مخصوص کمپنی کے بجائے دوسری کمپنی کی چیز دینا

استفتاء

کچھ دکاندار ایک مخصوص کمپنی کے شاپر مانگتے ہیں میں ان کو اسی کوالٹی کے دوسرے کمپنی کے شاپر جو تھوڑی کم قیمت کے ہوتے ہیں دے دیتا ہوں اورن کو اس کا علم نہیں ہوتا کہ یہ دوسری کمپنی کے شاپر ہیں۔ کیا ایسا کرنا  جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

گاہک کے علم میں لا کر اور بتا کر فروخت کرنا چاہیے۔ یوں اس کے علم میں لائے بغیر دوسری کمپنی کے کم قیمت والے شاپنگ بیگ فروخت کرنا دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے اور گناہ کا کام ہے۔ تاہم بیع منعقد ہو جائے گی اور خریدنے والے کو معلوم ہونے پر ان شاپنگ بیگس کے واپس کرنے کا اختیار ہو گا۔

شرح المجلہ للاتاسی (ص: 253) میں ہے:

وضابطه: إن كان المبيع من جنس المسمى ففيه الخيار … ولو اشترى جارية على أنها مولدة الكوفة فإذا هي مولدة البغداد، أو غلاماً على أنه تاجر، أو كاتب فإذا هو لا يحسنه… فله الخيار.

……………………………………………………….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved