• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غیر مسلم ملک میں حلال، حرام کھانے ڈیلیور کرنے کا حکم

استفتاء

میں آسٹریا (یورپ) میں رہتا ہوں اور کچھ مسائل کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔

1۔  فوڈ ڈیلیوری کا کام:

یہاں ایک ڈیلیوری سروس ہے جسے فوڈورا کہتے ہیں، جو بالکل پاکستان کے فوڈ پانڈا کی طرح ہے۔ اس میں حلال اور حرام دونوں قسم کی چیزیں ہوتی ہیں جو گاہکوں تک پہنچانی ہوتی ہیں۔ فی الحال مجھے کوئی اور مناسب نوکری نہیں مل رہی۔ کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں؟

2۔میکڈونلڈز میں نوکری:

میکڈونلڈز میں نوکری کا موقع مل رہا ہے، لیکن وہاں سور کا گوشت اور شراب (بیئر) بھی ملتی ہے۔ مجھے صرف برتن دھونے کا کام ملے گا۔ کیا یہ کام کرنا جائز ہوگا؟

3۔دیگر ریسٹورنٹس   میں کام:

یہاں اور بھی بہت سارے ریسٹورنٹس ہیں جہاں حرام چیزیں ملتی ہیں (جیسے سور کا گوشت اور شراب)۔ مجھے وہاں بھی صرف برتن دھونے اور کبھی کبھار کھانے کی ڈیلیوری کا کام مل سکتا ہے۔ کیا مجھے یہ کام کرنا چاہیے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔جس صورت میں آپ کو علم ہو کہ ڈیلیورکی جانے والی چیز خنزیر کا گوشت یا شراب ہے اس صورت میں راجح قول کے مطابق مذکورہ چیزوں کی ڈیلیوری جائز نہیں اور جس صورت میں علم نہ ہو اس صورت میں جائز ہے البتہ ایک مرجوح قول کے مطابق بہر صورت ڈیلیوری جائز ہے خواہ علم ہو یا نہ ہو لہذا اصل تو یہ ہے کہ علم کی صورت میں آپ مذکورہ چیزوں کی ڈیلیوری نہ کریں لیکن اگر آپ کی مجبوری ہے تو جب تک مجبوری ہے اس وقت تک گنجائش ہے مجبوری کے بعد گنجائش نہیں۔

توجیہ : خنزیر اور شراب ڈلیور کرنے کا اجارہ صاحبینؒ کے نزدیک باطل ہے جبکہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک صحیح ہے پھر اگر کفار کو مخاطب بالفروع نہ مانا جائے تو یہ اجارہ بلا کراہت صحیح ہے اور اگر مخاطب بالفروع مانا جائے تو کراہت کے ساتھ صحیح ہے چونکہ کفار  کا مخاطب بالفروع ہونا راجح ہے اس لیے راجح قول کے مطابق مذکورہ اجارہ جائز نہیں تاہم مرجوح قول کے مطابق مذکورہ اجارہ بلا کراہت صحیح ہے اور مجبوری میں مرجوح قول پر عمل کی گنجائش ہے۔

2۔برتن دھونے میں بذات خود کوئی گناہ کی بات نہیں اور نہ ہی برتن دھونا کسی گناہ کا سبب ہے لہذا اس نوکری کی گنجائش ہے۔

3۔ڈیلیوری کے کام میں اور برتن دھونے کے کام میں وہی تفصیل ہے جو نمبر 1 اور 2 کے تحت گزری۔

المحیط البرہانی(347/11) میں ہے:

وإذا استأجر مسلماً ليحمل له خمراً ولم يقل ليشرب، أو قال ليشرب جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما، وكذلك إذا استأجر الذمي بيتاً من مسلم ليبيع فيه الخمر، جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما.والوجه لأبي حنيفة فيما إذا نص على الشرب، إن هذه إجارة وقعت لأمر مباح؛ لأنها وقعت على حمل الخمر ليشربها الذمي، أو وقعت على الدار ليبيع الذميّ وشرب الخمر مباح؛ لأن خطاب التحريم كأنه غير نازل في حقه.

بدائع الصنائع (5/ 143)میں ہے:

«وعن بعض مشايخنا: حرمة الخمر، والخنزير ثابتة على العموم في حق المسلم، والكافر؛ لأن الكفار مخاطبون بشرائع هي حرمات هو الصحيح من مذهب أصحابنا فكانت الحرمة ثابتة في حقهم»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved