• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غیر مستحق شخص کا زکوٰۃ سے چلنے والے ہسپتال سے علاج کروانا

استفتاء

مفتی صاحب صورت مسئلہ یہ ہے کہ آغا خان ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کی کیمو تھراپی کے  لیے  Roche کمپنی کی ادویات استعمال ہو رہی ہیں ۔اور اس کمپنی نے مریضوں کو ریلیف دینے کے لیئے ادویات کی قیمتوں میں معافی کا ایک پروگرام دیا ہے ۔مختصر الفاظ میں ان کا کہنا ہے :

We know that countless patients are unable to secure adequate medical treatment due to financial constraints. We also recognise that we have a responsibility to do something about it. Hence in 2017, we launched our Patient Support Program, UNMOL.

UNMOL, an Urdu term meaning ‘precious,’ is a dynamic Patient Support Program that aims to improve access to healthcare for the underprivileged by offering a sustainable financial solution for those in need of treatment. UNMOL seeks to support patients by contributing to the cost of treatment by providing free of cost medicines through partnerships and public funding programs.

ترجمہ: ہم جانتے ہیں کہ بے شمار مریض مالی مشکلات کی وجہ سے مناسب طبی علاج حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے خلاف کچھ کرنے کی ہماری ذمہ داری ہے۔ لہذا، 2017 میں، ہم نے اپنا مریض حمایت پروگرام، UNMOL، شروع کیا۔

UNMOL، ایک اردو لفظ جو ‘قیمتی’ کے معنی میں ہے، ایک متحرک مریض حمایت پروگرام ہے جس کا مقصد صحت کی دیکھ بھال تک رسائی میں بہتری لانا ہے تاکہ نادار لوگوں کے لیے علاج کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ UNMOL مریضوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے علاج کی لاگت میں حصہ ڈال کر، دواؤں کی مفت فراہمی کے ذریعے، شراکت داریوں اور عوامی فنڈنگ کے پروگراموں کے ذریعے۔

معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر یہ انمول نامی ادارہ پبلک فنڈنگ سے ان دوائیوں کے پیسے معاف کر رہا ہے  اور پبلک فنڈنگ میں لوگ زکوٰۃ بھی دے دیتے ہیں یہ ادارے اس کا خیال نہیں  رکھتے کہ زکوٰۃ نہ لیں ، نہ دینے والے خیال رکھتے ہیں تو اس ضمن میں تین سوالات ہیں :

1۔ایسا شخص جو ضرورت مند تو ہے جیسا کہ آجکل علاج کے اخراجات مشکل ہیں (وہ بھی کینسر جیسی موذی بیماری  کے ) مگر وہ مستحق  زکوٰۃ نہیں  تو اسکے  لیے  یہ رعایت حاصل کرنا جائز ہے ؟

2۔بہت مرتبہ آغا خانی ،اسماعیلی ، بوہری اور ایسے دوسرے طبقات کے لوگ بھی چیرٹی کر دیتے ہیں، اور یہ بھی انہی مقاصد میں استعمال ہو رہی ہو تو کیا اس چیرٹی کا استعمال درست ہے ؟

3۔ایک  شخص  جس کے لیے  یہ اخراجات برداشت کرنا ناممکن تو نہیں ، وہ کچھ استطاعت رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ دوائیں کم  قیمت پر مل جائیں تاکہ اسے ان دواؤں  کی یہ مہنگی قیمتوں کا بوجھ  نہ برداشت کرنا پڑے  اور آغا خان ہسپتال کی طرف سے اپنے مریضوں کو یہ پروگرام دیا جا رہا ہے کہ وہ پہلی ڈوز مکمل قیمت دے کر لگائیں اور آگے کی رعایت کے لیے  انمول پروگرام کے ذریعے انہیں رعایت / قیمت معاف ہو سکے گی ۔ مگر اس کے لیے اسکی مالی حیثیت ظاہر  کرنا ہو گی جو بہت ڈاؤن نہیں  ہے  وہ اپنا مناسب کاروبار کرتا ہے ، تنخواہ فکس نہیں  جتنی بچت ہو جائے ۔تو کیا اس شخص کو یہ  رعایت حاصل کرنا  ہی نہیں  چاہیے ؟ یا وہ شخص اس دوائیوں کے  اضافی خرچہ سے کیسے بچ سکتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

3،1۔جو شخص زکوٰۃ کا مستحق  نہ ہو  اور اسے غالب گمان  یہ ہو کہ اس کے علاج میں ستعمال ہونے والی رقم میں زکوٰۃ وصدقات واجبہ کی رقم شامل ہے اس کے لیے علاج کی مذکورہ رعایت لینا شرعاً جائز نہیں ۔ البتہ ادارے کے پاس زکوٰۃ، صدقات واجبہ کے علاوہ کوئی اور فنڈ ہو تو اس فنڈ سے علاج کی مذکورہ رعایت لینا جائز ہے۔

2۔درست ہے ۔

الموسوعۃ الفقہیہ (4/18) میں ہے:

‌تجوز ‌الاستعانة في الجملة بغير المسلم، سواء أكان من أهل الكتاب أم من غيرهم في غير القربات، كتعليم الخط والحساب والشعر المباح، وبناء القناطر والمساكن والمساجد وغيرها فيما لا يمنع من مزاولته شرعا. ولا ‌تجوز ‌الاستعانة به في القربات كالأذان والحج وتعليم القرآن، وفي الأمور التي يمنع من مزاولتها شرعا

النتف فی الفتاویٰ (1/521) میں  ہے:

واما ‌هبة ‌الكافر ‌للمسلم فجائزة ايضا سواء كانت في دار الاسلام او في دار الكفر

فقہ المعاملات (1/150) میں ہے:

وكما ‌تجوز ‌هبة ‌المسلم للكافر تجوز كذلك هبة الكافر للمسلم لأن الهدية تعبير عن الإكرام …… وقد قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم هدية الكفار فقبل هدية كسرى وهدية قيصر وهدية المقوقس كما أهدى هو الكفار الهدايا والهبات.

احسن الفتاویٰ ( 8 / 123 ) میں ہے :

سوال : کافر کی دعوت قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب : جو کافر زندیق نہ ہو یعنی خود کو مسلمان نہ کہتا ہو اس کے گھر کا کھانا جائز ہے بشرطیکہ اسکی آمدن اسلام یا اسکے اپنے مذہب کی رو سے حلال ہو ورنہ نہیں البتہ اس کا ذبیحہ بہر حال حرام اور مردار ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل ( 4 /  134 ) میں ہے :

غیر مسلم کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے بشرطیکہ ناپاک نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved