• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غیر طلاق کو طلاق سمجھ کر طلاق کا اقرار کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے متعلق  کہ زید نے اپنی بیوی کو مورخہ 2025-9-23 کو جھگڑے کی حالت میں دو دفعہ “طلاق، طلاق”کا لفظ استعمال کیا ۔ زید کی بیوی ” زینب ”  اور دادی “فاطمہ ” موقع پر موجود تھیں۔ان سب کا کہنا ہے کہ دو دفعہ “طلاق، طلاق” کا لفظ استعمال ہوا جبکہ  زید کی بھابھی “عائشہ ” کا کہنا ہے کہ میں نے تین دفعہ” طلاق”کا لفظ سنا ہے۔

پھر اسی دن 2025ـ9ـ23 کو یہ لوگ قصبہ “***” کے مفتی اللہ نواز کے پاس گئے اور یہ روئیداد   سنائی اور ساتھ میں زید  (شوہر) نے کہا کہ ” ایک طلاق پہلے بھی دی ہے  دو مہینے قبل ”  اس مفتی صاحب نے دو ماہ قبل طلاق کی وضاحت، تفصیل اور  الفاظ  پوچھے بغیر   تین طلاقوں کا فتوی جاری کر دیا جس کی فوٹو کاپی بھی ساتھ  لف ہے ۔

جب زید سے قصبے کے ایک اور مقامی مفتی نے تفصیل سنی اور دو ماہ قبل دی ہوئی طلاق کا استفسار کیا تو اس نے تفصیل یہ بتائی کہ دو ماہ پہلے میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا کہ میں نے اپنی بھیڑ بیچنی ہے بیوی نے انکار کیا تو غصے میں ،میں نے کہا کہ “اگر میں نے بھیڑ نہیں بیچی تو طلاق ہے” پھر وہ بھیڑ بیچ دی اور موقع پر زید کی سالی نے لے لی اور زید کو اس بھیڑ کے پیسے  بھی دے دیے ۔اب دو ماہ سے بھیڑ زید کے پاس نہیں ہے بلکہ زید کی سالی کے پاس ہے ۔

اب جب یہ قصہ مقامی مفتی نے سنا تو اس نے پوچھا کہ دو ماہ پہلے والی تفصیل مفتی  خالد صاحب  کو سنائی ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں سنائی  اور مفتی  خالد صاحب  نے خود بھی دو ماہ قبل طلاق والی تفصیل نہیں پوچھی ، زید بھی دو ماہ قبل والے معاملے کو طلاق سمجھا ہوا تھا  مگر مقامی مفتی نے بتایا کہ تفصیل دوبارہ مفتی خالد صاحب  کو بتاؤ  اور پھر وائس میسج کے ذریعے مفتی  خالد صاحب  کو گوش گزار کیا کہ یہ تنقیح پوچھنی ضروری تھی اور اس وضاحت کو سوال نامے میں ذکر کرنا ضروری تھا مگر مفتی صاحب کا جواب آیا کہ جب مستفتی نے کہا کہ ایک طلاق پہلے دی ہے تو یہ مستفتی کی طرف سے بتانا کافی تھا اس طلاق کے الفاظ  تفصیل اور  تنقیح میرے ذمے نہیں ہے مگر مفتی صاحب سے لوگوں نے درخواست کی کہ اس پر نظر ثانی کریں پہلی طلاق کی تفصیل کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں اور اس پر غور کریں تو مفتی صاحب نے پہلی طلاق کے گواہ  بکر کو بلوایا  بکر گاؤں سے باہر شکار کے لیے گیا ہوا تھا اسے گاؤں تک آنے میں ایک دن گزر گیا ۔راستے میں ٹیلی فون پر گاؤں کے لوگ رابطے میں تھے اور لوگوں کو  بکر یہ بتاتا رہا کہ موقع پر صرف بھیڑ والا معاملہ تھا جو موقع پر ہی حل ہو گیا اس نے  بھیڑ بیچنے کے ساتھ طلاق مشروط کی تھی اور کوئی بات نہیں تھی ۔

رابطہ کنندہ اور فون سننے والوں میں  ضیاء ، صہیب ،  عمر، حسیب اور  اعظم وغیرہ گاؤں کے رہائشی ہیں مگر ایک دن بعد جب گواہ  بکر مفتی صاحب کے سامنے حاضر ہوا تو کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولتا  زید  نے بھیڑ بیچنے کی شرط کے ساتھ ساتھ موقع پر مزید طلاق کا لفظ استعمال کیا  مگر زید اور اس کی بیوی اور زید کی والدہ اور فیملی کے  دیگر لوگ بھیڑ بیچنے کی شرط کے علاوہ طلاق کے لفظ کے انکاری ہیں  اسی معاملے میں مفتی خالد صاحب نے کہا کہ گواہ نے بھی گواہی دے دی ہے لہذا میرا پہلا فتوی تین طلاقوں کا برقرار ہے میں اس پر قائم ہوں ۔یہ میاں بیوی اور فیملی طلاق سے بچنے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں اس تمام تر تفصیل کی روشنی میں ازروئے  شرع  وضاحت فرمائیں کہ میری بہن  زینب کو تین طلاقیں ہوئیں یا دو طلاقیں ہوئیں؟اس نکاح کے برقرار رہنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں لہذا اب نہ صلح  ہوسکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔

توجیہ: شوہر نے 2025ـ9-23 کو دو دفعہ اپنی بیوی کے لیے “طلاق” کا لفظ بولا (میاں بیوی کے بیان کے مطابق)جس کی وجہ سے دو طلاقیں  واقع ہو گئیں  اور تیسری طلاق اس وقت واقع ہوئی جب شوہر نے مفتی صاحب کے سامنے یہ الفاظ بولے کہ “ایک طلاق پہلے بھی دی ہے دو مہینے قبل”چونکہ ان الفاظ میں شوہر نے طلاق کا اقرار کیا ہے اور طلاق کا اقرار کرنے سے بھی قضاء طلاق واقع ہو جاتی ہے  خواہ شوہر جھوٹا اقرار کرے یا مزاح کے طور پر کرے یا غلط فہمی سے کرے۔

شامی (4/440) میں ہے:

ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.

الاشباه  والنظائر (ص:134) ميں  ہے:

‌ولو ‌أقر ‌بطلاق زوجته ظانا الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية

شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر (1/356) میں ہے:

‌ولو ‌أقر ‌بطلاق زوجته ظانا الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع …. الخ أى ديانة، أما قضاء فيقع كما فى القنية لإقراره به فإن قيل كيف يتبين خلافه؟ أجيب بأنه يحتمل أن يكون المفتى أفتى غير ما هو فى المذهب فأفتى من هو أعلم منه بعدم الوقوع ويحتمل ان المفتي أفتى أولا بالوقوع من غير تثبت ثم أفتى بعد التثبت بعدمه.

الفتاویٰ الحامدیہ (2/53) میں ہے:

وإذا أقر بشيء ثم ادعى الخطأ ‌لم ‌يقبل ‌كما في الخانية إلا إذا أقر بالطلاق بناء على ما أفتى به المفتي ثم تبين عدم الوقوع فإنه لا يقع كما في جامع الفصولين والقنية أشباه من كتاب الإقرار يعني لا يقع ديانة وبه صرح في القنية منح آخر الإقرار ومثله في العلائي

غمزۃ عیون البصائر فی شرح الاشباہ والنظائر(1/461) میں ہے:

قوله: ‌ولو ‌أقر ‌بطلاق زوجته ظانا الوقوع إلى قوله لم يقع إلخ. أي ديانة أما قضاء فيقع كما في القنية لإقراره به، فإن قيل كيف يتبين خلافه؟ أجيب بأنه يحتمل أن يكون المفتي أفتى غير ما هو في المذهب، فأفتى من هو أعلم منه بعدم الوقوع

التحقیق الباہر شرح الاشباہ والنظائر (2/735) میں ہے:

ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بافتاء المفتي، فتبين عدمه ……. لم يقع ديانة ولا يصدق فى الحكم

احسن الفتاوی (5/157)میں ہے:

سوال: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو غصہ میں آکر کہا کہ اگر دوبارہ آواز کی تو تجھے تین طلاق دوں گا اس سے پہلے کچھ کشمکش چل رہی تھی اس نے خیال کیا کہ میں نے جو الفاظ استعمال کیے ان سے شاید طلاق واقع ہو گئی اس لیے لوگوں سے کہنے لگا کہ اس کو میں نے طلاق دے دی ہے کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو سکتی ہے؟ بینوا توجروا

الجواب: طلاق ہو گئی بلکہ کسی مفتی کے غلط فتوے کی بناء  پر شوہر طلاق کی خبر دے تو بھی قضاءًطلاق ہو جاتی ہے دیانۃً نہیں ہوتی صورت سوال میں تو اس کی خبر مفتی پر مبنی نہیں ہے اس لیے دیانۃً بھی طلاق ہوگئی مگر طلاق کے عدد میں اس کے قول اول “تین طلاق دے دوں گا” کا اعتبار نہیں بلکہ لوگوں کو خبر دینے میں جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان کا اعتبار ہے اگر یوں کہا کہ “میں نے طلاق دے دی ہے” جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو ایک طلاق ہوئی اور اگر “تین طلاق دے دی ہے”کہا تو تین طلاقیں ہو گئیں۔

قال في الأشباه في القاعدة السابعة عشر :ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بافتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية.

وقال الحموي:قوله (لم يقع)اي ديانةً اما قضاءً فيقع كما في القنية لاقراره به.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved