• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گھر کے احاطے یا باہر لگائی گئی فصل پر عشر کا حکم

استفتاء

اگر کوئی شخص اپنے گھر کے احاطے میں یا باہر باغ یا سبزی  لگائے اور اس درخت کا پھل یا سبزی صرف اپنے بچوں کے کھانے کے لیے ہو، یا  کوئی شخص گھر کے اندر یا باہر چارے کی فصل اگائے اور اسے اپنے جانوروں کو کھلائے، جبکہ جانوروں کا دودھ فروخت کرنے کا ارادہ بھی ہو تو کیا ان صورتوں میں عشر واجب ہوگا یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔گھر کے احاطے میں پھل دار درختوں کے پھلوں یا سبزیوں پر عشر  واجب نہیں البتہ اگر درخت گھر کے احاطے سے باہر ہوں تو عشر واجب ہوگا ۔

2۔جانوروں کے لیے چارے کی فصل اگر گھر کے احاطے میں ہو تو عشر واجب نہیں اور اگر فصل گھر سے باہر ہو تو عشر واجب ہوگا۔

شامی (3/313) میں ہے:

(وكذا) يجب العشر (في ثمرة جبل أو مفازة ‌إن ‌حماه ‌الإمام)

وفي الشامية: (قوله: في ثمرة جبل) ……….. وخرج ثمرة شجر في دار رجل، ولو بستانا في داره؛ لأنه تبع للدار

ہندیہ (1/406) میں ہے:

ولو كان في دار رجل ‌شجرة ‌مثمرة لا عشر فيها كذا في شرح المجمع لابن الملك

ہندیہ (1/406) میں ہے:

وأن يكون الخارج منها مما يقصد بزراعته نماء الأرض هكذا في البحر الرائق.

فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر كذا في محيط السرخسي

فتاویٰ قاضیخان (1/403) میں ہے:

ولا يجب العشر في التين ولا في الحطب والحشيش والقنب والصنوبر والقصب الفارسى ولا في سعف النخل ولا في الطرفاء ولا في الدلب وشجر القطن والباذنجان ويجب في بذر القنب وبذر الصنوبر ولو جعل أرضه مشجرة أو مقصبة يقطعها ويبيعها في كل سنة كان فيه العشر وكذا ولو جعل فيها القت للدواب

امداد الفتاویٰ (2/94) میں ہے:

سوال: چری جو بیل ،بھینس وغیرہ ہری کھاتے ہیں جو بونے سے تھوڑے ہی عرصہ بعد کاٹنا شروع ہوجاتی ہے جانوروں کے کھلانے کے واسطے اور جب تک اس میں جو ار آتی ہے بہت کاٹ کر جانوروں کو کھلادی جاتی ہے، ایسی زراعت میں زکوٰۃ کس صورت سے ادا کی جائے اور زکوٰۃ چری پر بھی ہے اور جوار پر بھی اور چری پر ہے تو چری کا کھڑا دسواں حصّہ دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یانہیں ؟

الجواب:  دسواں یا بیسواں حصّہ جیسی زمین ہو سب پیداوار پر ہے۔ اس صورت میں بہتر ہے کہ کھڑے کھیت میں سے اندازہ کرکے اتنا علیٰحدہ کردیا جائے۔ اخیر میں اس کو یا اس کے داموں کو مصرفِ عشر میں خرچ کردیا جائے۔

بہشتی زیور (ص:194) میں ہے:

کسی نے اپنے گھر کے اندر کوئی درخت لگایا یا کوئی چیز ترکاری کی قسم سے یا اور کچھ بویا اور  اس میں پھل آیا تو اس میں بھی یہ صدقہ واجب نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved